اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے پیر سوہاوہ میں واقع مونال ریسٹورنٹ سے متعلق سپریم کورٹ کا سابقہ فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے سی ڈی اے اور میٹرو پولیٹن کارپوریشن کی اپیلیں منظور کر لی ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں حکمِ امتناعی بھی ختم کر دیا اور متعلقہ ٹرائل کورٹس کو ہدایت کی کہ زیر التوا مقدمات کا جلد از جلد قانون کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔
وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ مونال ریسٹورنٹ کی ملکیت سے متعلق حتمی فیصلہ ٹرائل کورٹس کریں گی اور وہ اس ضمن میں کسی بھی عدالتی آبزرویشن سے متاثر ہوئے بغیر آزادانہ طور پر فیصلہ کرنے کی مجاز ہوں گی۔ عدالت نے مزید واضح کیا کہ انتظامی اور ریگولیٹری نوعیت کے معاملات کا فیصلہ متعلقہ ادارے اور ریگولیٹری باڈیز کریں گی۔
دورانِ سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کئی اہم نکات کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کیس دائر کرنے یا نظرثانی درخواست دائر کرنے پر بھی عدالت نے سخت رویہ اختیار کیا، جبکہ فیصلے میں ایسی باتیں بھی شامل کی گئیں جن کا مقدمے کے حقائق سے تعلق نہیں تھا۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے مزید کہا کہ عدالت جذبات کی بنیاد پر نہیں بلکہ قانون اور دستیاب ریکارڈ کی روشنی میں فیصلہ کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق فیصلہ پڑھنے سے اندازہ ہوا کہ اس میں عدالتی کارروائی سے ہٹ کر بھی کئی امور تحریر کیے گئے تھے۔
سماعت کے دوران وکیل احسن بھون نے عدالت کے تفصیلی جائزے کو سراہا، جس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ عدالت کی تعریف کرنے کی ضرورت نہیں، عدالت صرف قانون اور ریکارڈ کے مطابق فیصلہ سناتی ہے، نہ کہ "الف لیلیٰ کی کہانیاں” فیصلوں کا حصہ بناتی ہے۔
