کیف: یوکرین میں بڑے سیاسی ردوبدل کے تحت صدر وولودیمیر زیلنسکی نے حکومتی ڈھانچے میں وسیع پیمانے پر تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم یولیا سویریڈینکو کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد یوکرینی حکومت نے اجتماعی طور پر استعفیٰ دے دیا۔
صدر زیلنسکی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ حکومت میں یہ تبدیلیاں ملک کی نئی سیاسی حکمت عملی پر مؤثر اور تیز رفتار عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں حکومتی کارکردگی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے نئے انتظامی اقدامات ناگزیر ہیں۔
صدر نے تاحال نئے وزیراعظم کے نام کا اعلان نہیں کیا، تاہم توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ چند روز میں نئی قیادت اور کابینہ کی تشکیل کے حوالے سے اہم فیصلے سامنے آئیں گے۔
اپنے بیان میں صدر زیلنسکی نے سبکدوش ہونے والی وزیراعظم یولیا سویریڈینکو کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گزشتہ ایک سال کے دوران انتہائی ذمہ داری، مستقل مزاجی اور مؤثر انداز میں اپنے فرائض انجام دیے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یولیا سویریڈینکو کو ایک اہم بین الاقوامی شراکت دار کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے نئی ذمہ داری سنبھالنے کی پیشکش بھی کی گئی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یوکرین میں یہ حکومتی تبدیلی ملک کی داخلی حکمت عملی اور بین الاقوامی تعلقات کو نئی سمت دینے کی کوشش کا حصہ سمجھی جا رہی ہے، جبکہ نئی کابینہ کی تشکیل پر ملکی اور عالمی حلقوں کی گہری نظر ہے۔
