پیرس: فرانس نے ملک میں مسلسل کم ہوتی شرحِ پیدائش سے نمٹنے اور خاندان دوست پالیسیوں کو فروغ دینے کے لیے والدین کو اضافی تنخواہ سمیت رخصت فراہم کرنے کا نیا قانون نافذ کر دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد نومولود بچوں کو زندگی کے ابتدائی مہینوں میں والدین کی زیادہ توجہ اور نگہداشت فراہم کرنا، خاندانی زندگی کو بہتر بنانا اور خواتین و مردوں کے درمیان ذمہ داریوں میں توازن پیدا کرنا ہے۔
یکم جولائی 2026 سے نافذ ہونے والے قانون کے تحت بچے کی پیدائش یا قانونی طور پر گود لینے کی صورت میں والد اور والدہ دونوں کو اضافی والدینی رخصت (Parental Leave) کا انفرادی حق حاصل ہوگا۔ نئی سہولت کے مطابق ہر والدین ایک سے دو ماہ تک اضافی چھٹی لے سکیں گے، جس کے دوران پہلے ماہ میں تنخواہ کا 70 فیصد جبکہ دوسرے ماہ میں 60 فیصد ادا کیا جائے گا۔
فرانسیسی حکومت کے مطابق والدین اس اضافی رخصت سے اپنی سہولت کے مطابق ایک ساتھ یا الگ الگ بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ دونوں والدین بیک وقت بھی چھٹی لے سکتے ہیں یا پھر باری باری اس حق کو استعمال کر سکتے ہیں تاکہ بچے کی دیکھ بھال کے لیے زیادہ مؤثر منصوبہ بندی ممکن ہو سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا قانون یکم جنوری 2026 یا اس کے بعد پیدا ہونے والے یا گود لیے جانے والے بچوں کے والدین پر لاگو ہوگا۔ اس اقدام کا مقصد خاندانوں کو معاشی سہارا فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ والدین کو ملازمت اور گھریلو ذمہ داریوں کے درمیان بہتر توازن قائم کرنے میں مدد دینا بھی ہے۔
فرانسیسی حکومت کا مؤقف ہے کہ نئی پالیسی خواتین اور مردوں کے درمیان مساوی ذمہ داریوں کو فروغ دے گی اور بچوں کی ابتدائی نشوونما کے دوران دونوں والدین کی فعال شرکت کو یقینی بنائے گی۔
اس سے قبل فرانس میں پہلی مرتبہ ماں بننے والی خواتین کو تقریباً 16 ہفتوں یعنی چار ماہ کی تنخواہ سمیت زچگی کی چھٹی جبکہ والد کو 28 روز کی پدری رخصت فراہم کی جاتی تھی۔ نیا قانون ان موجودہ مراعات کے علاوہ ایک اضافی سہولت کے طور پر نافذ کیا گیا ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 2024 میں ملک میں مسلسل کم ہوتی شرحِ پیدائش اور بانجھ پن کے بڑھتے ہوئے مسائل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خاندانی پالیسیوں میں اصلاحات کا اعلان کیا تھا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ قانون انہی اصلاحات کا حصہ ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں دوسری جنگِ عظیم کے بعد پہلی مرتبہ فرانس میں پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد ملک میں ہونے والی اموات سے کم رہی، جسے حکومت نے ایک اہم آبادیاتی چیلنج قرار دیا۔ ماہرین کے مطابق نئی والدینی رخصت کی پالیسی مستقبل میں شرحِ پیدائش میں بہتری اور خاندانی استحکام کے لیے اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
