Table of Contents
تہران: ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا ہے کہ آئندہ چند روز میں امریکی حکام کے ساتھ کسی بھی براہِ راست ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں، جبکہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ایرانی اور قطری حکام کے درمیان منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی اور مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد سے متعلق مذاکرات ہوں گے۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے اسماعیل بقائی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کی تردید کی کہ ایران اور امریکا کے درمیان اعلیٰ سطح کا اجلاس متوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ "درست مؤقف وہی ہے جو ایرانی وزارت خارجہ پہلے ہی بیان کر چکی ہے، امریکی حکام سے کسی ملاقات کی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔”
انہوں نے بتایا کہ دوحہ میں ہونے والی بات چیت صرف قطری حکام کے ساتھ ہوگی، جس میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی مختلف شقوں، بالخصوص ایران کے منجمد مالی اثاثوں کی واپسی کے طریقہ کار پر مشاورت کی جائے گی۔
منجمد اثاثوں کی واپسی کا عمل جاری
بقائی کے مطابق مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی پر عملدرآمد جاری ہے اور اس سلسلے میں تمام ضروری انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ عمل کامیابی سے آگے بڑھے گا اور مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی خواہش ہے کہ ان اثاثوں تک مکمل اور آزادانہ رسائی حاصل ہو تاکہ انہیں ملکی ضروریات اور مطلوبہ اشیاء کی خریداری کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
آبنائے ہرمز میں بیرونی مداخلت مسترد
ایرانی ترجمان نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم بحری گزرگاہ میں کسی بیرونی مداخلت کی ضرورت نہیں۔
انہوں نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت کی شق 5 کے تحت آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانا ایران کی ذمہ داری ہے اور تہران اس ذمہ داری سے پوری طرح آگاہ ہے۔
بقائی نے کہا کہ ایران اس عمل کو خود انجام دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور کسی تیسرے فریق کی مداخلت نہ صرف غیر ضروری بلکہ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
عمان کے ساتھ مشاورت جاری
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق انتظامات کے حوالے سے عمان کے ساتھ مسلسل مشاورت جاری ہے اور مستقبل میں دیگر خلیجی ساحلی ممالک کے ساتھ بھی بین الاقوامی قوانین اور علاقائی خودمختاری کے اصولوں کے مطابق رابطے کیے جائیں گے۔
انہوں نے زور دیا کہ ایران خطے میں سلامتی، استحکام اور بحری آمدورفت کے تحفظ کے لیے سفارتی ذرائع کو ترجیح دیتا ہے اور تمام معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں ہے۔
