مسقط: عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد البوسعیدی نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (MoU) کے تحت آبنائے ہرمز کو ہر قسم کے خطرات سے محفوظ رکھنا ایران کی ذمہ داری ہے، جبکہ عمان خطے میں سمندری سلامتی اور محفوظ جہاز رانی کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون کرنے کو تیار ہے۔
عمانی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر متعلقہ فریق درخواست کریں تو عمان علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ایسی تمام کوششوں میں شریک ہوگا جن کا مقصد آبنائے ہرمز اور دیگر اہم سمندری راستوں کی سلامتی کو یقینی بنانا ہو۔
انہوں نے واضح کیا کہ عمان آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی یا دیگر بحری جہازوں پر ٹرانزٹ فیس عائد کرنے کی حمایت نہیں کرتا، کیونکہ آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے۔
بدر البوسعیدی نے کہا کہ البتہ سمندری، ماحولیاتی اور جہاز رانی سے متعلق فراہم کی جانے والی خدمات کے عوض رضاکارانہ بنیادوں پر فیس کے نظام پر بات چیت کی جا سکتی ہے۔ ان خدمات میں بحری راستوں کی حفاظت، سمندری آلودگی کی روک تھام، ماحولیاتی تحفظ اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاری شامل ہو سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس نوعیت کے کسی بھی انتظام کے لیے متعلقہ ممالک، شپنگ کمپنیوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ باہمی مشاورت ضروری ہوگی تاکہ ایک قابلِ قبول اور متوازن طریقہ کار وضع کیا جا سکے۔
عمانی وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز کی سلامتی، عالمی توانائی کی سپلائی اور ایران و امریکا کے درمیان جاری سفارتی رابطے بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
