لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کے نئے سیزن کے لیے جامع پالیسی جاری کرتے ہوئے ڈیپارٹمنٹل ٹیموں کی سالانہ رجسٹریشن فیس میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس پر مختلف محکموں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق پی سی بی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے تحت گریڈ ون ڈیپارٹمنٹل ٹیم کے لیے سالانہ فیس ڈیڑھ کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ گریڈ ٹو گولڈ کیٹیگری کی ٹیموں کے لیے 42 لاکھ اور سلور کیٹیگری کے لیے 40 لاکھ روپے سالانہ فیس مقرر کی گئی ہے۔
نئی پالیسی کے مطابق ڈیپارٹمنٹس کو اپنے کھلاڑیوں کو کم از کم مقررہ ماہانہ معاوضہ دینا لازمی ہوگا۔ گریڈ ون میں کم از کم ایک کھلاڑی کو ایک لاکھ 25 ہزار روپے ماہانہ، یعنی سالانہ 15 لاکھ روپے ادا کرنا ہوں گے، جبکہ گریڈ ٹو گولڈ میں کم از کم 75 ہزار روپے اور گریڈ ٹو سلور میں 50 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دینا لازمی قرار دی گئی ہے۔
پی سی بی نے یہ بھی لازمی قرار دیا ہے کہ تمام ڈیپارٹمنٹس اپنے کھلاڑیوں کے ساتھ کم از کم ایک سال کا باقاعدہ معاہدہ کریں تاکہ انہیں مالی اور پیشہ ورانہ تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
نوٹیفکیشن میں پریزیڈنٹ ٹرافی فرسٹ کلاس، پریزیڈنٹ کپ ون ڈے اور پریزیڈنٹ ٹرافی گریڈ ٹو گولڈ و سلور مقابلوں کے لیے میچ فیس اور ڈیلی الاؤنس کی تفصیلات بھی جاری کی گئی ہیں۔ گریڈ ون میں فی میچ فیس 10 ہزار روپے، ریزرو کھلاڑی کے لیے 5 ہزار روپے جبکہ روزانہ الاؤنس بھی 5 ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے۔ اسی طرح گریڈ ٹو میں فی میچ فیس 5 ہزار روپے اور روزانہ الاؤنس 4 ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب متعدد ڈیپارٹمنٹس نے سالانہ فیس میں اضافے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ تمام آپریشنل اخراجات پہلے ہی متعلقہ ادارے برداشت کرتے ہیں، ایسے میں فیس میں مسلسل اضافہ محکموں کی حوصلہ شکنی کے مترادف ہے۔ ذرائع کے مطابق پہلے سالانہ فیس 30 لاکھ روپے تھی، بعد ازاں اسے 50 لاکھ روپے کیا گیا اور اب اسے بڑھا کر ڈیڑھ کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔
محکموں کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی اپنے کھلاڑیوں کو مناسب معاوضے فراہم کرتے ہیں، لہٰذا کم از کم تنخواہ کی لازمی شرط اور سالانہ فیس میں اضافہ ان پر اضافی مالی بوجھ ڈالے گا۔
پی سی بی نے ان معاملات پر غور کے لیے 29 جون کو ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کا اہم اجلاس بھی طلب کر لیا ہے، جس میں نئی پالیسی، محکموں کے تحفظات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی مشاورت کی جائے گی۔
