امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے لیے ایک خصوصی جنرل لائسنس جاری کر دیا ہے، جس کے تحت ایرانی خام تیل، پیٹروکیمیکل اور پٹرولیم مصنوعات کی پیداوار، فروخت اور ترسیل کی محدود مدت کے لیے اجازت دی گئی ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے واضح کیا ہے کہ یہ جنرل لائسنس 21 اگست 2026 تک مؤثر رہے گا اور اس مدت کے دوران ایران کو خام تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی برآمد اور ترسیل کی اجازت حاصل ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق اس لائسنس کے تحت ایرانی خام تیل، پٹرولیم مصنوعات اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی امریکا میں درآمد کی بھی اجازت دی گئی ہے، جسے دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی اور تکنیکی مذاکرات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم امریکی محکمہ خزانہ نے بعض پابندیاں برقرار رکھتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران سے تیل یا متعلقہ مصنوعات کی ترسیل شمالی کوریا، کیوبا اور یوکرین کے لیے ممنوع رہے گی اور ان ممالک کو کسی قسم کی برآمدات کی اجازت نہیں ہوگی۔
ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں اور حالیہ تکنیکی مذاکرات کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جس کا مقصد توانائی کی عالمی منڈی میں استحکام پیدا کرنا اور بعض اقتصادی معاملات میں پیش رفت کو ممکن بنانا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھتے ہیں تو توانائی کے شعبے میں مزید نرمی اور اقتصادی تعاون کے امکانات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔
