برطانیہ میں سیاسی غیر یقینی صورتحال ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں وزیراعظم Keir Starmer کے بارے میں اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ وہ اپنی سیاسی مستقبل کے حوالے سے اہم فیصلے پر غور کر رہے ہیں، جبکہ Andy Burnham کو ممکنہ جانشین کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
رائٹرز کے مطابق، گزشتہ سال بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے والے کیئر اسٹارمر شدید سیاسی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کی مقبولیت میں مسلسل کمی اور لیبر پارٹی کی گرتی عوامی حمایت کے باعث پارٹی کے اندر قیادت کی تبدیلی کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔
سیاسی ذرائع کے مطابق اسٹارمر نے ہفتے کے دوران اس بات پر غور کیا کہ آیا وہ قیادت برقرار رکھنے کے لیے مقابلہ کریں یا منظم انداز میں اقتدار کی منتقلی کا راستہ اختیار کریں۔
دوسری جانب گریٹر مانچسٹر کے میئر اینڈی برنہم نے حالیہ پارلیمانی انتخاب میں نمایاں کامیابی حاصل کر کے اپنی سیاسی پوزیشن مزید مضبوط کر لی ہے۔ ان کی جیت کے بعد لیبر پارٹی کے کئی ارکان انہیں مستقبل کے رہنما کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
اگرچہ برنہم کو ایک تجربہ کار سیاست دان اور مؤثر مذاکرات کار سمجھا جاتا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ابھی تک خارجہ پالیسی، دفاع اور معاشی امور پر واضح حکمت عملی پیش نہیں کی۔
برطانیہ اس وقت معاشی دباؤ، بلند قرضوں، سست اقتصادی ترقی، بڑھتی مہنگائی اور عوامی خدمات کے بحران جیسے مسائل سے دوچار ہے، جبکہ سرمایہ کار بھی نئی قیادت کی مالیاتی پالیسیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
وزیراعظم اسٹارمر نے اس سے قبل واضح کیا تھا کہ اگر ان کی قیادت کو چیلنج کیا گیا تو وہ مقابلہ کریں گے، تاہم بعض سینئر وزراء نے اعتراف کیا ہے کہ وزیراعظم موجودہ سیاسی حالات اور پارٹی کو درپیش مشکلات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر اسٹارمر اپنی روانگی کا ٹائم ٹیبل طے کرتے ہیں تو اینڈی برنہم کے لیے اقتدار کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ اس صورت میں 2016 کے بریگزٹ ریفرنڈم کے بعد برطانیہ کو اپنا ساتواں وزیراعظم مل جائے گا، جو ملک میں سیاسی عدم استحکام کی عکاسی کرے گا۔
یوریشیا گروپ سمیت کئی تجزیاتی اداروں کا خیال ہے کہ اگر اسٹارمر موسم خزاں میں مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہیں تو اس سے اقتدار کی منظم منتقلی کا عمل ممکن ہو سکتا ہے اور لیبر پارٹی کو نئی قیادت کے تحت خود کو منظم کرنے کا وقت مل جائے گا۔
