واشنگٹن نے کیوبا کی حکومت پر دباؤ بڑھاتے ہوئے ملک کے اعلیٰ سیاسی اور فوجی حکام سمیت نو افراد اور ایک انٹیلی جنس ادارے پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ان پابندیوں میں کیوبا کے وزیرِ مواصلات سمیت متعدد اعلیٰ فوجی اور سیاسی شخصیات کو نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ ملک کی مرکزی انٹیلی جنس سروس بھی فہرست میں شامل کی گئی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق یہ اقدام Cuba کی کمیونسٹ حکومت پر دباؤ بڑھانے کی وسیع پالیسی کا حصہ ہے، جس کا مقصد مبینہ طور پر حکومت کو اس کے داخلی و خارجی طرزِ عمل پر جوابدہ بنانا ہے۔
پابندیوں کی فہرست میں شامل نمایاں شخصیات میں حکومتی عہدیدار، فوجی جنرلز اور انٹیلی جنس ادارے کے اہلکار شامل ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (Office of Foreign Assets Control) نے ان افراد اور اداروں پر مالی اور سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
واشنگٹن کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات کیوبا حکومت پر دباؤ بڑھانے اور خطے میں امریکی پالیسی کے مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے کیے گئے ہیں، جبکہ انتظامیہ نے کیوبا کی معاشی مشکلات اور توانائی بحران کو بھی اپنی پالیسیوں سے جوڑا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تازہ پابندیاں امریکا اور کیوبا کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب لاطینی امریکہ میں سیاسی کشمکش پہلے ہی بڑھ رہی ہے۔
