اسرائیلی بحریہ نے ایک بار پھر غزہ کیلئے امداد لے جانے والے “گلوبل صمود فلوٹیلا” کو روک لیا ہے، جبکہ امدادی تنظیم کا کہنا ہے کہ قافلے میں شامل کشتیوں کا مکمل کنٹرول اسرائیلی فورسز نے سنبھال لیا ہے۔
امدادی تنظیم کے مطابق اسرائیلی فوج کی اسپیڈ بوٹس نے بحیرہ روم میں فلوٹیلا کے متعدد جہازوں کو گھیرے میں لے لیا، جس کے بعد قافلے سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ تنظیم نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امدادی کارکنوں کو بین الاقوامی پانیوں میں گرفتار کیا جا سکتا ہے۔
ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی کے صاحبزادے سعد ایدھی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ بحیرہ روم میں موجود امدادی قافلے کا اسرائیلی جنگی جہاز مسلسل تعاقب کر رہا تھا اور اب ایک کشتی کو روک بھی لیا گیا ہے۔
سعد ایدھی نے کہا کہ ان کا مشن مکمل طور پر پرامن اور انسانی بنیادوں پر مبنی ہے، جس کا مقصد غزہ کے متاثرہ عوام تک امداد پہنچانا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اسرائیلی فورسز بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قافلے کے شرکاء کو حراست میں لے سکتی ہیں۔
واضح رہے کہ سعد ایدھی 15 مئی کو ترکیے سے روانہ ہونے والے اس امدادی قافلے کا حصہ تھے، جس کا مقصد غزہ میں جاری انسانی بحران کے دوران خوراک، ادویات اور دیگر ضروری سامان پہنچانا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق غزہ جانے والے امدادی قافلوں کو روکنے کے واقعات خطے میں انسانی بحران اور کشیدگی کو مزید بڑھا رہے ہیں، جبکہ عالمی انسانی حقوق تنظیمیں بارہا ایسے اقدامات پر تشویش کا اظہار کر چکی ہیں۔
