ایران نے امریکا کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے لیے سات اہم شرائط سامنے رکھتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تہران اب بھی واشنگٹن کو “ناقابلِ اعتماد دشمن” سمجھتا ہے اور اپنی عسکری و معاشی طاقت میں مزید اضافہ جاری رکھے گا۔
ایرانی پارلیمنٹ کی داخلی امور کمیٹی کے سربراہ محمد صالح جوکار نے ایرانی خبر ایجنسی “مہر” سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کی جانب سے طے کردہ شرائط امریکا کے ساتھ کسی بھی ممکنہ مذاکرات میں “سرخ لکیر” کی حیثیت رکھتی ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا فوجی دباؤ، پابندیوں اور سیاسی اقدامات کے ذریعے ایران میں نظام کی تبدیلی، ملک کی تقسیم اور وسائل پر کنٹرول چاہتا تھا، تاہم تہران نے ان تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا۔
محمد صالح جوکار کے مطابق ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے انکار کردیا، جو پاکستان میں متوقع تھا۔ انہوں نے کہا کہ واشنگٹن نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ جہاز رانی کے لیے کھولنے کے بدلے ایران پر عائد بحری پابندیاں نرم کرنے کی تجاویز پیش کی تھیں، مگر تہران نے انہیں مسترد کردیا۔
ایران کی سات بنیادی شرائط
ایرانی رہنما کے مطابق امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے درج ذیل شرائط رکھی گئی ہیں:
- آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری ٹریفک ایرانی مسلح افواج کی نگرانی اور رابطے کے تحت منظم کی جائے۔
- خطے میں تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ کیا جائے۔
- “محورِ مزاحمت” سے وابستہ تمام گروہوں کے خلاف کارروائیاں بند کی جائیں۔
- خطے میں موجود تمام امریکی جنگی افواج اپنے فوجی اڈوں سے واپس جائیں۔
- ایران کو جنگی اور معاشی نقصانات کا مکمل ہرجانہ ادا کیا جائے۔
- ایران پر عائد تمام اقتصادی پابندیاں ختم کی جائیں اور بیرون ملک منجمد اثاثے جاری کیے جائیں۔
- ایران کے یورینیم افزودگی کے حق کو باضابطہ تسلیم کیا جائے۔
محمد صالح جوکار نے کہا کہ ایران اپنی خودمختاری، دفاعی صلاحیت اور قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
دوسری جانب امریکی صدر Donald Trump نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جلد کوئی معاہدہ نہ ہوا تو “سنگین نتائج” سامنے آسکتے ہیں۔
امریکی صدر اس سے قبل ایرانی ردعمل کو “انتہائی مایوس کن” قرار دے چکے ہیں اور واضح کرچکے ہیں کہ ایرانی بندرگاہوں پر عائد امریکی بحری پابندیاں برقرار رہیں گی۔
ادھر ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کے حوالے سے سخت اقدامات اور دھمکیوں کے بعد عالمی بحری آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
