Table of Contents
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکر دھماکوں کا شکار ہوگئے۔ ایرانی حکام کے مطابق، دونوں جہاز مبینہ طور پر غیر مجاز راستے سے گزر رہے تھے۔
پاسدارانِ انقلاب کے شعبۂ تعلقات عامہ کے بیان میں کہا گیا کہ جہاز سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے۔ دھماکوں کے بعد ایک بڑے آئل ٹینکر میں آگ بھڑک اٹھی۔
بیان کے مطابق، متاثرہ ٹینکر شدید دھماکے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آگیا۔ جہاز میں لگی آگ کے باعث اسے نقصان پہنچا۔
جہازوں پر نیویگیشن نظام بند رکھنے کا الزام
پاسدارانِ انقلاب نے دونوں جہازوں پر اپنے نیویگیشن اور شناختی نظام بند رکھنے کا الزام بھی لگایا۔ ایرانی حکام کے مطابق، جہاز خفیہ طور پر آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
تاہم، ان الزامات کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ ایرانی بیان میں جہازوں کے نام اور عملے کی تفصیلات بھی فراہم نہیں کی گئیں۔
برطانوی بحری ادارے کی نامعلوم شے سے ٹکرانے کی اطلاع
یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا جب برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی نے ایک بحری واقعے کی اطلاع دی تھی۔ ادارے کے مطابق، ایک جہاز کو نامعلوم پرتابی شے نے نشانہ بنایا تھا۔
دوسری جانب، عالمی بحری آمدورفت کی نگرانی کرنے والے ادارے وینگارڈ کے مطابق، متاثرہ جہازوں میں سے ایک پاناما کے پرچم تلے سفر کر رہا تھا۔ دھماکے اور آگ لگنے کے بعد جہاز کا ایک حصہ پانی میں ڈوب گیا۔
بارودی سرنگوں یا میزائلوں کا معاملہ؟
امریکی سینٹرل کمانڈ نے حالیہ ہفتوں میں جہازوں کے بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے دعووں کی تردید کی ہے۔ امریکی فوج کا مؤقف ہے کہ ایران بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے میزائل اور ڈرون استعمال کر رہا ہے۔
یوں آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو پہنچنے والے نقصان کی وجوہات پر مختلف دعوے سامنے آرہے ہیں۔ تاہم، تازہ واقعات کی مکمل اور آزادانہ تحقیقات کے بعد ہی اصل صورتحال واضح ہوسکے گی۔
