Table of Contents
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بعض فریقین کی جانب سے ’ایرانی تنازع‘ کی اصطلاح استعمال کرنے پر اعتراض کیا ہے۔ ان میں قطری اور فرانسیسی حکام کا مشترکہ بیان بھی شامل ہے۔
بقائی نے جمعرات کی شام سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنا ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف جارحانہ جنگ کو ’ایرانی تنازع‘ کہہ کر حقیقت مسخ نہ کی جائے۔
بقائی کا مشترکہ بیان پر ردعمل
ایرانی ترجمان نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ گمراہ کن تشریحات کے ذریعے حقیقت چھپانے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق، ’ایرانی تنازع‘ جیسی کوئی چیز نہیں ہے۔
بقائی نے دعویٰ کیا کہ اصل حقیقت امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف مسلط کردہ جارحانہ جنگ ہے۔ یہ مؤقف ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں پیش کیا۔
جارحیت کی نشاندہی اخلاقی ذمہ داری ہے، بقائی
اسماعیل بقائی نے کہا کہ جارحیت کو اس کے اصل نام سے پکارنے سے گریز غیر جانبداری نہیں ہے۔ ان کے مطابق، یہ اخلاقی ذمہ داری سے پہلو تہی کے مترادف ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر جارحیت کی نشاندہی نہ کی جائے تو ناانصافی کا مقابلہ کیسے ممکن ہوگا؟ ان کے مطابق، ایسے حالات میں عملی حل پیش کرنے اور امن کے قیام میں مؤثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت کا دعویٰ بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
امن کے قیام کے لیے اصولوں کی پاسداری پر زور
ایرانی ترجمان نے مزید کہا کہ امن کی تعمیر جارحین کو خوش کرنے سے ممکن نہیں۔ ان کے مطابق، جارحیت کو جائز قرار دینا بھی امن کے قیام کا راستہ نہیں ہے۔
بقائی نے مظلوم کی مذمت اور بنیادی اصولوں پر سمجھوتے کو بھی مسترد کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ پائیدار امن کے لیے جارحیت کی واضح نشاندہی ضروری ہے۔
یہ تمام مؤقف اسماعیل بقائی کے بیان کا حصہ ہیں۔ انہوں نے یہ ردعمل بعض بیانات میں ’ایرانی تنازع‘ کی اصطلاح استعمال کیے جانے کے تناظر میں دیا۔
