Table of Contents
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایلون مسک سے رابطہ کیا۔ انہوں نے یوکرین میں اسٹار لنک پر عائد پابندیاں ہٹانے کی درخواست کی۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے جمعرات کو یہ رپورٹ دی۔ اخبار نے امریکی حکام کے حوالے سے یہ خبر شائع کی۔
رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ اور مسک کے درمیان فون پر گفتگو ہوئی۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد اسٹار لنک سسٹم معمول کے مطابق کام کرنے لگا۔ امریکی اور یوکرینی حکام نے بھی اس پیش رفت کی اطلاع دی۔
اسٹار لنک کی رفتار پر اختلاف
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، ٹرمپ نظام کی رفتار محدود کیے جانے پر مایوس تھے۔ انہوں نے یہ بات مسک کے سامنے رکھی۔ رپورٹ کے مطابق، رفتار تقریباً 100 میل فی گھنٹہ تک محدود تھی۔ یہ رفتار تقریباً 160 کلومیٹر فی گھنٹہ بنتی ہے۔
تاہم، یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے مختلف صورت حال بیان کی۔ انہوں نے جمعرات کو کہا کہ اسٹار لنک کی رفتار بحال نہیں ہوئی۔ زیلنسکی نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے رابطے کی امید بھی ظاہر کی۔ ان کے مطابق، یہ بات چیت آنے والے دنوں میں متوقع ہے۔
اسٹار لنک سے متعلق فیصلوں کا اختیار
مارکو روبیو نے بدھ کو اسٹار لنک کے معاملے پر بیان دیا تھا۔ ان کے مطابق، یوکرین کو اس نظام کی فراہمی کے فیصلے اسپیس ایکس کے اختیار میں ہیں۔ اسپیس ایکس کے چیف ایگزیکٹو ایلون مسک بھی ان فیصلوں میں اختیار رکھتے ہیں۔ روبیو نے واضح کیا کہ یہ فیصلے وائٹ ہاؤس کے اختیار میں نہیں ہیں۔
اسپیس ایکس، اسٹار لنک کی بنیادی کمپنی ہے۔ یہ سیٹلائٹ کے ذریعے انٹرنیٹ خدمات فراہم کرتی ہے۔
یوکرین کی جنگ میں اسٹار لنک کا کردار
یوکرین میدانِ جنگ میں اسٹار لنک استعمال کرتا ہے۔ یہ نظام فوجی مواصلات اور ڈرون آپریشنز میں مدد دیتا ہے۔ اس کے ذریعے فوجی یونٹس رابطے برقرار رکھ سکتے ہیں۔
اسی لیے اسٹار لنک کی دستیابی یوکرین کے لیے اہم ہے۔ اس کی رفتار بھی جنگی مواصلات پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ تاہم، نظام کی بحالی سے متعلق بیانات میں اختلاف سامنے آیا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے معمول کی کارکردگی بحال ہونے کی اطلاع دی۔ دوسری جانب، زیلنسکی نے رفتار بحال نہ ہونے کا کہا۔
