Table of Contents
یورپی یونین نے روس کے خلاف نئی پابندیوں کی منظوری دے دی ہے۔ ان کا ہدف روس کا فوجی اور صنعتی شعبہ ہے۔
یورپی یونین کی کونسل کے مطابق، اس اقدام کے تحت 1,569 افراد اور اداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان میں 826 کمپنیاں اور 743 کمپنیوں کے سربراہ شامل ہیں۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے اس فیصلے کی وضاحت کی۔ ان کے مطابق، پابندیوں کی زد میں آنے والے نصف سے زیادہ ادارے بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کے سلسلے سے وابستہ ہیں۔
میزائلوں اور دفاعی سازوسامان کی تیاری پر دباؤ
یورپی یونین کا مقصد روس کے لیے ہتھیار تیار کرنا مشکل بنانا ہے۔ اس اقدام سے ہتھیاروں کی تیاری سست اور مہنگی ہونے کی توقع ہے۔
یہ ہتھیار یوکرین کے خلاف جنگ میں استعمال ہوتے ہیں۔ پابندیوں میں ان کمپنیوں کو ہدف بنایا گیا ہے جو فوجی سازوسامان کے لیے ضروری پرزے فراہم کرتی ہیں۔
ان میں میزائل، بغیر پائلٹ طیارے اور جنگی ہوائی جہاز بنانے والی صنعتیں شامل ہیں۔ الیکٹرانکس، ریڈار اور نیویگیشن کے آلات فراہم کرنے والے ادارے بھی نشانے پر ہیں۔ اس کے علاوہ، گولہ بارود سے متعلق کمپنیوں کو بھی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
مقبوضہ یوکرینی علاقوں کے انتخابی عہدیدار بھی نشانے پر
یورپی یونین نے ایک الگ اقدام کے تحت مزید 77 افراد پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ یہ افراد روس کے مرکزی انتخابی کمیشن کے امیدوار یا ارکان رہے ہیں۔
ان کا تعلق روسی ریاستی دوما کے ان انتخابات سے ہے جو یوکرین کے مقبوضہ علاقوں میں منعقد ہوئے تھے۔ یورپی یونین نے اس اقدام کو بھی اپنے پابندیوں کے سلسلے کا حصہ بنایا ہے۔
ماسکو پر دباؤ برقرار رکھنے کا مطالبہ
کاجا کالاس نے روس پر دباؤ برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان قریبی تعاون کی حمایت بھی کی۔
ان کے مطابق، ماسکو پر مسلسل دباؤ ضروری ہے۔ یورپی یونین کا مؤقف ہے کہ نئی پابندیاں روس کی فوجی صلاحیتوں کو متاثر کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
