Table of Contents
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت اب کام نہیں کرے گی۔ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبائی امور چلانے کے لیے 11 رکنی ایڈوائزری کونسل قائم کردی گئی ہے۔
اسلام آباد میں وفاقی وزرا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے فیصلے کی تفصیلات بتائیں۔ ان کے مطابق، گورنر فیصل کریم کنڈی وفاق کی جانب سے صوبے کے معاملات چلائیں گے۔ انہیں ایڈوائزری کونسل کی معاونت بھی حاصل ہوگی۔
11 رکنی ایڈوائزری کونسل کا اعلان
وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کونسل کے ارکان کے ناموں کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ کونسل میں تجربہ کار ماہرین اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات شامل ہیں۔
عطا اللہ تارڑ نے ارکان کو ’’شائننگ اسٹارز‘‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق، ان افراد کو متعلقہ شعبوں میں تجربے کی بنیاد پر ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔
کونسل میں کفایت اللہ خان، طارق محمود پاشا، عامر جاوید اور ڈاکٹر سید عامر عبداللہ شامل ہیں۔ دیگر ارکان میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر خان بھی شامل ہیں۔
ڈاکٹر سرفراز علی شاہ، ڈاکٹر محمد ارشاد اور آصف رفیق آفریدی بھی کونسل کا حصہ ہیں۔ مولانا محمد طیب قریشی، عثمان سیف اللہ خان اور ثمر ہارون بلور بھی ارکان میں شامل ہیں۔
ارکان کو مختلف محکموں کی ذمہ داریاں سونپ دی گئیں
حکومت نے کونسل کے ارکان کو مختلف محکموں کی نگرانی سونپی ہے۔ ان کی ذمہ داریاں درج ذیل ہیں:
- کفایت اللہ خان: محکمہ داخلہ اور قبائلی امور
- طارق محمود پاشا: محکمہ خزانہ
- عامر جاوید: قانون اور پارلیمانی امور
- ڈاکٹر سید عامر عبداللہ: محکمہ تعلیم
- لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر خان: محکمہ صحت
- ڈاکٹر سرفراز علی شاہ: معدنیات اور کان کنی
- ڈاکٹر محمد ارشاد: صنعت و تجارت
- آصف رفیق آفریدی: مواصلات و تعمیرات
- مولانا محمد طیب قریشی: مذہبی امور
- عثمان سیف اللہ خان: توانائی
- ثمر ہارون بلور: اطلاعات و نشریات
گورنر وفاق کی جانب سے صوبائی امور چلائیں گے
اعظم نذیر تارڑ کے مطابق، ایڈوائزری کونسل گورنر کو صوبائی معاملات چلانے میں مدد دے گی۔ کونسل کے ارکان اپنے متعلقہ شعبوں میں مشاورت فراہم کریں گے۔
وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد یہ انتظام قائم کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد صوبے میں انتظامی معاملات چلانا اور امن و امان کی صورتحال بہتر بنانا ہے۔
حکومت کے مطابق، ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبائی حکومت کے اختیارات گورنر کو منتقل ہوگئے ہیں۔ نئے انتظام کے تحت صوبے کے سرکاری امور وفاق کی نگرانی میں چلائے جائیں گے۔
