Table of Contents
یمن کی تحریک انصار اللہ کے رہبر سید عبدالملک بدرالدین الحوثی نے سعودی عرب پر سخت الزامات عائد کیے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب امریکا اور اسرائیل کے ساتھ مل کر یمنی عوام کے خلاف جرائم کر رہا ہے۔
عبدالملک الحوثی نے یہ بیان 2016 میں صنعا کے علاقے الصالۃ الکبریٰ میں ہونے والے حملے کی دسویں برسی کے موقع پر دیا۔
ان کا خطاب سعودی امریکی اتحاد کے حملے کی یاد میں منعقد ہونے والی تقریب کے دوران سامنے آیا۔
صنعا حملے کا حوالہ
عبدالملک الحوثی نے الصالۃ الکبریٰ کے واقعے کو سعودی حکومت کا جرم قرار دیا۔
ان کے مطابق اس حملے میں تقریباً ایک ہزار افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یمن کے مختلف صوبے سعودی کارروائیوں کے گواہ ہیں۔
الحوثی نے سعودی عرب پر بے گناہ افراد کا خون بہانے کا الزام بھی عائد کیا۔
انہوں نے مسلم اقوام سے سعودی حکومت کو مبینہ جرائم کے تناظر میں دیکھنے کی اپیل کی۔
یمنی مزاحمت مزید مضبوط ہوئی، الحوثی
عبدالملک الحوثی نے کہا کہ سعودی عرب یمنی مزاحمت کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔
ان کے مطابق سعودی عرب یمنی عوام کو جھکنے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ طویل جنگ نے یمنی عوام کے عزم کو مزید مضبوط کیا ہے۔
الحوثی نے کہا کہ سعودی کارروائیوں میں اضافے سے یمنی مزاحمت بھی مزید مضبوط ہوئی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑے فریق بھی اس جارحیت میں شریک تصور ہوں گے۔
باب المندب سے متعلق دعویٰ
عبدالملک الحوثی نے باب المندب کے حوالے سے بھی سعودی عرب پر الزام عائد کیا۔
ان کے مطابق بین الاقوامی بحری آمد و رفت کو سعودی کارروائیوں سے خطرہ ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب نے باب المندب کے علاقے کو جنگی زون بنا دیا ہے۔
الحوثی نے کہا کہ انصار اللہ کا موقف مضبوط ہے۔
انہوں نے سعودی افواج کے خلاف مزید کارروائیوں کا عندیہ بھی دیا۔
سعودی تیل تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی
عبدالملک الحوثی نے کہا کہ سعودی عرب کو اپنی جارحانہ پالیسی کی قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
ان کے مطابق سعودی عرب کی تیل برآمدات متاثر ہوسکتی ہیں۔
انہوں نے سعودی تیل تنصیبات اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دی۔
یہ بیانات انصار اللہ کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف سخت موقف کی عکاسی کرتے ہیں۔
صنعا میں ملین مارچ کی اپیل
انصار اللہ کے رہبر نے یمنی عوام سے جمعہ کے روز ملین مارچ میں شرکت کی اپیل کی۔
انہوں نے صنعا سمیت تمام صوبوں میں عوام سے شرکت کا مطالبہ کیا۔
الحوثی نے اسے جارحیت اور محاصرے کے خلاف یمنی موقف کے اظہار کا ذریعہ قرار دیا۔
انہوں نے سعودی کارروائیوں کی مذمت کے لیے بھی عوام سے متحد ہونے کی اپیل کی۔
فلسطین کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان
عبدالملک الحوثی نے اسرائیل کے حوالے سے بھی اپنے موقف کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ انصار اللہ کشیدگی میں اضافے کے ہر مرحلے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔
ان کے مطابق فلسطینی عوام کی حمایت جاری رکھی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ انصار اللہ تمام ممکنہ وسائل کے ذریعے فلسطینی قوم کی حمایت کرے گی۔
