Table of Contents
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے یو ایس ایس ابراہم لنکن کا دورہ کیا۔ انہوں نے طویل جنگی مشن مکمل کرنے والے عملے کی خدمات کو سراہا۔
یو ایس ایس ابراہم لنکن اور اس کے کیریئر اسٹرائیک گروپ نے ایران سے متعلق امریکی فوجی کارروائیوں میں حصہ لیا۔ یہ تعیناتی امریکی بحریہ کی طویل ترین مسلسل تعیناتیوں میں شامل رہی۔
265 دن مسلسل سمندر میں تعیناتی
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یو ایس ایس ابراہم لنکن 265 دن تک مسلسل سمندر میں رہا۔ جہاز نومبر 2025 میں کیلیفورنیا سے روانہ ہوا تھا۔
ابتدائی طور پر اسے بحرالکاہل میں تعیناتی کے لیے روانہ کیا گیا تھا۔ بعد میں ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے قبل اسے مشرق وسطیٰ کی جانب موڑ دیا گیا۔
جہاز ستمبر کے آغاز میں تھائی لینڈ کی بندرگاہ پر پہنچا۔ اس کے بعد یہ اپنے آبائی اڈے سان ڈیاگو کی طرف روانہ ہوا۔
ہزاروں جنگی مشنز میں حصہ
ہیگسیتھ نے عملے سے خطاب میں مشن کی کامیابیوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ لنکن کیریئر اسٹرائیک گروپ نے غیر معمولی کارکردگی دکھائی۔
وزیر دفاع کے مطابق گروپ نے تقریباً 10 ہزار پروازیں کیں۔ اس دوران 23 ہزار جنگی پروازوں کے گھنٹے مکمل کیے گئے۔
انہوں نے تقریباً 4 ہزار جنگی مشنز کا بھی ذکر کیا۔ ہیگسیتھ نے گروپ کی کارروائیوں کو امریکی بحریہ کی تاریخ میں غیر معمولی قرار دیا۔
کیریئر اسٹرائیک گروپ کو صدارتی اعزاز
پیٹ ہیگسیتھ نے یو ایس ایس ابراہم لنکن کیریئر اسٹرائیک گروپ کو Presidential Unit Citation دینے کا اعلان کیا۔
یہ امریکی فوج میں کسی یونٹ کو دیا جانے والا اعلیٰ ترین اعزاز ہے۔ یہ اعزاز جنگی حالات میں غیر معمولی کارکردگی پر دیا جاتا ہے۔
ہیگسیتھ نے کہا کہ اس گروپ نے دشمن کی افواج کے خلاف غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا۔
عملے کی ذہنی صحت بھی زیر بحث رہی
لنکن کی طویل تعیناتی کے دوران عملے کی ذہنی صحت پر بھی سوالات اٹھے۔ امریکی بحریہ کے مطابق اس کیریئر اسٹرائیک گروپ سے وابستہ اہلکاروں میں آٹھ خودکشی کی کوششیں رپورٹ ہوئیں۔
یہ تعداد جہاز کے عملے تک محدود نہیں تھی۔ اس میں کیریئر ایئر ونگ، معاون بحری جہازوں اور دیگر متعلقہ اہلکاروں کو بھی شامل کیا گیا تھا۔
ہیگسیتھ نے میڈیا تنقید مسترد کردی
ہیگسیتھ نے یو ایس ایس ابراہم لنکن سے متعلق منفی میڈیا کوریج پر بھی تنقید کی۔
انہوں نے کہا کہ بعض حلقوں نے جہاز کو نظام کی خرابی اور کم حوصلے کی علامت بنانے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق حقیقت اس کے برعکس ہے۔
امریکی وزیر دفاع نے عملے کی ثابت قدمی کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی عوام کو اس مشن پر فخر ہونا چاہیے۔
