Table of Contents
کابل: افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے پانچ سال مکمل ہوگئے ہیں۔ اس موقع پر ہفتے کو کابل میں فوجی پریڈ ہوئی۔
طالبان حکام نے اس دن کو اپنی فتح کے طور پر پیش کیا۔ دوسری جانب عالمی اداروں نے افغانستان کی صورتحال پر تشویش ظاہر کی ہے۔
ملک کو انسانی، اقتصادی اور سکیورٹی کے کئی بحرانوں کا سامنا ہے۔


کابل میں طالبان کی فوجی پریڈ
طالبان فورسز نے کابل میں فوجی پریڈ کا انعقاد کیا۔
سابق امریکی سفارت خانے کے باہر بکتر بند گاڑیاں کھڑی کی گئیں۔ وہاں طالبان کے جھنڈے اور بینرز بھی آویزاں کیے گئے۔
طالبان حکومت نے اس دن کو ’’یوم فتح‘‘ قرار دیا۔
وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے طالبان کی اقتدار میں واپسی کو بڑی کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ طالبان حوصلے اور خدائی مدد کے ذریعے دوبارہ اقتدار میں آئے۔
تاہم، انہوں نے افغانستان کو درپیش مشکلات کا بھی اعتراف کیا۔
2021 میں طالبان دوبارہ اقتدار میں آئے
امریکی اور اتحادی افواج کے انخلا کے بعد طالبان نے اگست 2021 میں افغانستان کا کنٹرول سنبھال لیا۔
طالبان نے ابتدا میں ایک نسبتاً معتدل حکومت کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم، بعد میں خواتین اور لڑکیوں پر سخت پابندیاں عائد کی گئیں۔
ان پابندیوں پر عالمی سطح پر شدید تنقید ہوئی ہے۔
خواتین اور لڑکیوں پر پابندیاں
یونیسکو کے مطابق لاکھوں افغان لڑکیاں اور خواتین تعلیم سے محروم ہیں۔
ادارے کے مطابق تقریباً 25 لاکھ لڑکیوں اور خواتین کو سیکنڈری اسکولوں اور یونیورسٹیوں سے باہر رکھا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کی خواتین نے بھی افغان خواتین کی نقل و حرکت پر پابندیوں کی نشاندہی کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بہت سی افغان خواتین اب مہینے میں صرف ایک یا دو مرتبہ گھر سے باہر نکلتی ہیں۔
طالبان کا مؤقف ہے کہ وہ اسلامی شریعت کے تحت خواتین کے حقوق کا احترام کرتے ہیں۔
افغانستان سفارتی تنہائی کا شکار
طالبان حکومت کو اب بھی عالمی سطح پر محدود سفارتی قبولیت حاصل ہے۔
روس طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن چکا ہے۔
دوسری جانب پاکستان اور افغانستان کے تعلقات بھی کشیدہ ہیں۔
اسلام آباد نے کابل پر پاکستانی عسکریت پسندوں کی حمایت کا الزام لگایا ہے۔ طالبان ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔
اس کے باوجود طالبان نے کئی ممالک کے ساتھ سفارتی رابطے بڑھائے ہیں۔
علاقائی تجارت پر توجہ
طالبان حکومت افغانستان کے جغرافیائی محل وقوع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
حکام جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا کے درمیان تجارتی روابط بڑھانا چاہتے ہیں۔
پاکستان، چین، ازبکستان، ایران، ترکی اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک سے رابطے جاری ہیں۔
رائٹرز کے مطابق ان ممالک میں طالبان کے اقتدار کی پانچویں سالگرہ کے حوالے سے تقریبات بھی متوقع تھیں۔
سکیورٹی چیلنجز برقرار
افغانستان کو اب بھی سکیورٹی کے مسائل کا سامنا ہے۔
بدخشاں میں طالبان کے انفارمیشن ڈائریکٹر جولائی کے آخر میں ایک حملے میں مارے گئے تھے۔ اسلامک اسٹیٹ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
مقامی میڈیا کے مطابق جمعرات کو ایک اور حملے میں صوبائی دارالحکومت کے میئر بھی ہلاک ہوئے۔
یہ واقعات افغانستان میں عسکریت پسندوں کے خطرے کو اجاگر کرتے ہیں۔
طالبان مسلسل ملک میں سکیورٹی بہتر بنانے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں۔
انسانی بحران سنگین ہوگیا
افغانستان میں انسانی ضروریات بھی بڑھ رہی ہیں۔
انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی کے مطابق انسانی امداد کی ضرورت ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔
خشک سالی اور مہلک زلزلوں نے مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔
ایران اور پاکستان سے افغان شہریوں کی واپسی نے بھی کئی علاقوں پر اضافی دباؤ ڈالا ہے۔
کمیٹی کے مطابق 2021 کے بعد انسانی امداد کے محتاج افغانوں کی تعداد میں 35 لاکھ کا اضافہ ہوا ہے۔
اس دوران عالمی امدادی فنڈز میں بھی کمی آئی ہے۔
اقوام متحدہ کا دیرپا امن پر زور
اقوام متحدہ نے افغانستان میں دیرپا امن کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
عالمی ادارے نے تمام افغان شہریوں کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق پائیدار امن کے لیے جامع معاشرہ ضروری ہے۔
ایسا معاشرہ تمام افغانوں کے حقوق اور صلاحیتوں کو تسلیم کرے۔
طالبان کے لیے پانچ سال بعد بڑا چیلنج
طالبان کے اقتدار میں پانچ سال مکمل ہوچکے ہیں۔
اس عرصے میں حکومت نے علاقائی روابط بڑھانے کی کوشش کی ہے۔
تاہم انسانی بحران اب بھی سنگین ہے۔
خواتین کے حقوق پر پابندیاں بھی عالمی تشویش کا باعث ہیں۔
سکیورٹی کے مسائل اور معاشی مشکلات بھی برقرار ہیں۔
افغانستان کے لیے آنے والے برسوں میں ان چیلنجز سے نمٹنا اہم ہوگا۔
