Table of Contents
پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی مرکزی اور صوبائی قیادت سمیت اتحادی جماعتیں 27 ستمبر کے لانگ مارچ کے لیے تیار ہیں۔
سہیل آفریدی نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ لانگ مارچ کی تاریخ پر پارٹی قیادت اور اتحادیوں نے اتفاق کیا ہے۔
پی ٹی آئی قیادت لانگ مارچ پر متفق
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ پی ٹی آئی کی تمام سیاسی قیادت لانگ مارچ کے معاملے پر آن بورڈ ہے۔
ان کے مطابق پارٹی کی صوبائی اور مرکزی قیادت نے مشاورت کے بعد 27 ستمبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ اتحادی جماعت تحریک تحفظ آئین پاکستان (TTAP) بھی لانگ مارچ کے فیصلے میں شامل ہے۔
بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کا مطالبہ
سہیل آفریدی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جیل میں ملاقاتوں پر بھی بات کی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام غیر آئینی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ عمران خان کی بہنوں اور وکلا کو بھی ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو اپنے ذاتی ڈاکٹروں تک رسائی دی جائے۔ ان کے مطابق عمران خان کو بہترین اسپتال میں علاج کی سہولت بھی ملنی چاہیے۔
پرامن احتجاج آئینی حق ہے
سہیل آفریدی نے کہا کہ پی ٹی آئی پر انتشاری سیاست کا الزام لگایا جاتا رہا ہے۔
ان کے مطابق پرامن احتجاج کرنا ہر شہری اور سیاسی جماعت کا آئینی حق ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ بھی پرامن احتجاج کے طور پر کیا جائے گا۔
علیمہ خان سے متعلق مؤقف
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے علیمہ خان کے تحفظات پر بھی بات کی۔
انہوں نے کہا کہ علیمہ خان سیاسی شخصیت نہیں ہیں اور ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔
سہیل آفریدی کے مطابق پارٹی قیادت انہیں لانگ مارچ کی تاریخ سے متعلق تمام حقائق اور تفصیلات سے آگاہ کرے گی۔ (Dawn)
عمران خان کی ہدایت پر فیصلہ تبدیل ہوسکتا ہے
سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ لانگ مارچ کے معاملے میں بانی پی ٹی آئی کی ہدایت کو حتمی اہمیت حاصل ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان لانگ مارچ کی کال واپس لینے کی ہدایت کریں گے تو فیصلہ تبدیل کر دیا جائے گا۔
دوسری جانب پی ٹی آئی نے لانگ مارچ سے قبل دیگر اپوزیشن جماعتوں سے رابطوں کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں مختلف سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی جائے گی۔
