واشنگٹن، امریکی سینیٹ نے روس اور ایران کے خلاف پابندیوں کو مزید سخت کرنے سے متعلق بل پر دوسری مرحلہ وار (پروسیجرل) ووٹنگ بھی منظور کر لی، جس کے بعد اس قانون سازی پر باقاعدہ بحث جاری رکھنے اور آئندہ دنوں میں حتمی ووٹنگ کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
C-SPAN کی نشریات کے مطابق، بل پر بحث شروع کرنے کے حق میں 84 سینیٹرز نے ووٹ دیا، جبکہ 12 سینیٹرز نے مخالفت کی۔ اس سے ایک روز قبل ہونے والی پہلی مرحلہ وار ووٹنگ میں بھی بل کو 86 کے مقابلے میں 12 ووٹوں سے منظوری ملی تھی۔
سینیٹ میں اکثریت رکھنے والے ریپبلکن ارکان کو توقع ہے کہ اس بل پر حتمی ووٹنگ رواں ہفتے کے اختتام تک کرائی جا سکتی ہے۔
بل کے اہم نکات میں روس کی سیاسی اور عسکری قیادت، سرکاری اداروں اور کمپنیوں پر مزید پابندیاں عائد کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ روس کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک اور اداروں پر ثانوی پابندیاں لگانے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
قانون سازی میں روسی تیل اور قدرتی گیس کے بڑے خریداروں پر 100 فیصد درآمدی ٹیرف عائد کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، جس کا مقصد روس کی توانائی سے حاصل ہونے والی آمدنی کو محدود کرنا ہے۔
یہ بل مرحوم امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم سمیت متعدد قانون سازوں نے پیش کیا تھا۔ گراہم 11 جولائی 2026 کو انتقال کر گئے تھے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز بل کی عمومی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس قانون سازی پر فوری کارروائی کے لیے کانگریس کی اگست کی تعطیلات ملتوی کرنے کی ضرورت نہیں سمجھتے۔
اب بل پر سینیٹ میں مزید بحث کے بعد حتمی ووٹنگ متوقع ہے، جس کے بعد منظوری کی صورت میں اسے قانونی مراحل سے گزرنا ہوگا۔

