پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ اگر سیاسی جماعت کو مسلسل دباؤ میں رکھا گیا تو وہ سسٹم کے اندر رہنے پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو سکتی ہے۔
گلگت بلتستان میں ایک کارنر میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ایسے حالات پیدا نہ کیے جائیں کہ پی ٹی آئی یہ سوچنے پر مجبور ہو جائے کہ سسٹم کے اندر رہنے کا فائدہ کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ان کی جماعت اسمبلیوں اور سینیٹ سے بھی باہر نکلنے پر مجبور ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو انتخابی مہم چلانے سے روکنا “پری پول دھاندلی” کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق پارٹی قیادت، ارکانِ قومی اسمبلی اور دیگر رہنماؤں کو روکنا یا صوبہ بدر کرنا نہ صرف آئین کی خلاف ورزی ہے بلکہ جمہوری اصولوں کے بھی منافی ہے۔
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ جو لوگ اپنے حلقوں میں کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے، وہ اب گلگت بلتستان کے عوام سے ووٹ مانگ رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی چار سالہ کارکردگی یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکا جائے تاکہ انتخابات میں فائدہ حاصل کیا جا سکے۔
انہوں نے پر اعتماد انداز میں کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور اور خوددار ہیں اور وہ کسی بھی سیاسی دھوکے کا شکار نہیں ہوں گے۔

