Gaza Strip میں حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کے کمانڈر عز الدین الحداد کی شہادت کی تصدیق کے بعد ہفتے کے روز ان کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔
مقامی ذرائع کے مطابق نماز جنازہ غزہ شہر کی مسجد شہداء الاقصیٰ میں ادا کی گئی، جس کے بعد انہیں ان کی اہلیہ اور بیٹی کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا، جو اسرائیلی فضائی حملے میں جاں بحق ہوئی تھیں۔
جنازے میں شرکت کے لیے بڑی تعداد میں فلسطینی شہری جمع ہوئے، جبکہ شرکا فلسطینی پرچم اور حماس کے جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے۔
اسرائیل کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ داخلی سکیورٹی ادارے “شاباک” کے تعاون سے عز الدین الحداد کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق وہ 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے اہم منصوبہ سازوں میں شامل تھے۔
حماس ذرائع نے بھی تصدیق کی کہ الحداد گزشتہ روز غزہ شہر میں ایک رہائشی اپارٹمنٹ پر اسرائیلی حملے میں مارے گئے۔ تنظیم کے قریبی ذرائع کے مطابق ان کی لاش بری طرح مسخ ہو چکی تھی، تاہم اہل خانہ اور ساتھیوں نے شناخت کی۔
حماس رہنما Basem Naim نے اپنے بیان میں الحداد کی ہلاکت کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ تحریک مزید قربانیاں دینے کے لیے تیار ہے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی دباؤ کے باعث عز الدین الحداد کو نشانہ بنانے کی کارروائی تقریباً دو ہفتے تک مؤخر رکھی گئی تھی۔ اسرائیلی حکام کا ماننا ہے کہ ان کی ہلاکت کے بعد غزہ میں حماس کی عسکری قیادت کمزور ہو سکتی ہے۔
اسرائیلی اندازوں کے مطابق عز الدین الحداد غزہ میں موجود حماس کی آخری اہم عسکری شخصیات میں شمار کیے جاتے تھے، جبکہ محمد عودہ کو اب بھی زندہ اہم رہنماؤں میں شامل قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غزہ جنگ بندی اور جنگ کے بعد کے سیاسی انتظام سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کی مجوزہ تجاویز پر مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔
