Table of Contents
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کی مخالفت کر دی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت یہ فیصلہ قبول نہیں کرے گی۔ اس کے خلاف بھرپور سیاسی حکمت عملی تیار کی جائے گی۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر ایمرجنسی نافذ کرنا ضروری ہے تو اسے وفاق میں نافذ کیا جائے۔ انہوں نے صوبے میں اس اقدام کی ضرورت پر بھی سوال اٹھایا۔
اسحاق ڈار نے رات ساڑھے دس بجے رابطہ کیا
مولانا فضل الرحمان کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے انہیں رات ساڑھے دس بجے فون کیا تھا۔ دونوں کے درمیان خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے معاملے پر بات ہوئی۔
ان کے بقول، اسحاق ڈار نے مؤقف اختیار کیا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون نہیں کر رہی۔
مولانا فضل الرحمان نے جواب میں کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے حالات یکساں نہیں ہیں۔ تاہم، انہوں نے سوال کیا کہ اگر ایسا اقدام ضروری ہے تو بلوچستان میں ایمرجنسی کیوں نافذ نہیں کی جا رہی۔
دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کے نتائج پر سوال
سربراہ جے یو آئی نے دہشت گردی کے خلاف حکومتی حکمت عملی پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بار بار آپریشنز کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے۔ ان کے مطابق، یہ صورت حال حکمت عملی پر سوالات اٹھاتی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ انہیں آپریشن کی حمایت کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔ تاہم، پہلے یہ بتایا جائے کہ اب تک کیے گئے آپریشنز کے نتائج کیا ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) نے بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دی ہیں۔ ان کے مطابق، جماعت کے علما بھی شہید ہوئے ہیں۔
حکومت پر وعدے پورے نہ کرنے کا الزام
مولانا فضل الرحمان نے حکومت پر یقین دہانیاں پوری نہ کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ حکومت نے وعدے کیے تھے۔ تاہم، ان پر عمل نہیں کیا گیا۔
انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے آئین اور انسانی حقوق کو دفن کر دیا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جمہوریت کے دعوے کرنے والوں نے تیسری مرتبہ گورنر راج نافذ کیا ہے۔ ان کے مطابق، یہ اقدام جمہوری اقدار کے منافی ہے۔
پی ٹی آئی قیادت سے رابطوں کی تفصیلات
سربراہ جے یو آئی نے بتایا کہ انہوں نے کانفرنس کال پر پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں سے بات کی تھی۔ ان رہنماؤں میں سہیل آفریدی، بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر شامل تھے۔
مولانا فضل الرحمان کے مطابق، انہوں نے متعلقہ قیادت کو بتایا تھا کہ مطالبات تسلیم ہونے پر لانگ مارچ ختم کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم سے بھی اس معاملے پر بات ہوئی تھی۔ وزیراعظم کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور ان کے علاج کے معاملات حل کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔
مولانا فضل الرحمان کے بقول، وزیراعظم نے اس تجویز سے اتفاق کیا تھا۔ انہوں نے جواب میں کہا تھا کہ ٹھیک ہے۔ اس کے بعد مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی قیادت کو صورت حال سے آگاہ کر دیا تھا۔
ثالثی اور سیاسی مذاکرات کا معاملہ
مولانا فضل الرحمان نے ثالثی کے کردار پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ فریقین میں اختلافات یا تلخی پیدا ہو جائے تو ثالث اپنا کردار ادا کرتا ہے۔
ان کے مطابق، حکومت نے مذاکرات کے دوران یقین دہانیاں کرائی تھیں۔ تاہم، بعد میں ان وعدوں پر عمل نہیں کیا گیا۔
انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی قبول نہیں کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اس فیصلے کے خلاف بھرپور سیاسی حکمت عملی تیار کرے گی۔
