Table of Contents
یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے۔
حوثیوں نے سعودی عرب میں کئی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان میں ریاض کا کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ بھی شامل ہے۔
حوثیوں کے مطابق سعودی آرامکو کی ایک ریفائنری کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ جنوبی سعودی عرب کے دیگر علاقوں پر حملوں کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔
ان دعووں کی آزادانہ تصدیق فوری طور پر نہیں ہو سکی۔
سعودی اتحاد کی حوثی تنصیبات کے خلاف کارروائی
سعودی قیادت میں اتحاد نے یمن کے ساحلی صوبے حدیدہ میں کارروائی کا دعویٰ کیا ہے۔
اتحاد کے مطابق حوثیوں کے ہتھیاروں کے گودام نشانہ بنائے گئے۔ بارودی کشتیوں کی تنصیبات بھی کارروائی کا ہدف بنیں۔
اتحاد نے بحری بارودی سرنگوں کے ذخائر تباہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
سعودی اتحاد کے مطابق کارروائی کا مقصد بحیرۂ احمر میں حوثیوں کی فوجی صلاحیت کم کرنا ہے۔
یمنی فورسز کی صنعاء کی جانب پیش قدمی
یمنی حکومت کی فورسز نے حوثیوں کے خلاف بڑا فوجی آپریشن شروع کیا ہے۔
یمنی حکام کے مطابق فورسز نے باب المندب کے اطراف اہم علاقوں میں پیش قدمی کی ہے۔ انہیں سعودی فضائی مدد بھی حاصل ہے۔
سعودی اتحاد کے مطابق آپریشن کے ابتدائی مرحلے میں 100 جنگی طیاروں نے حصہ لیا۔ اتحاد نے 324 اہم اہداف تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔
یمنی حکومت نے صنعاء کی جانب کارروائی شروع کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ تاہم، زمینی صورتحال سے متعلق بعض دعووں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
موخا پر دوبارہ قبضے کا دعویٰ
یمنی حکومتی فورسز نے بحیرۂ احمر کے ساحلی شہر موخا پر دوبارہ قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حکومتی فورسز نے باب المندب کے قریب متعدد مقامات پر بھی پیش قدمی کی ہے۔
حکومتی فورسز نے ذباب اور دیگر علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حوثیوں نے بعض حکومتی دعووں کو مسترد کیا ہے۔
پاکستان اور ترکیہ سعودی عرب کی مدد کریں گے
یمن میں بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان اور ترکیہ نے سعودی عرب کی مدد پر اتفاق کیا ہے۔
ریاض میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے ہنگامی اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے۔
تینوں ممالک نے سعودی عرب میں فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کی تیز تعیناتی پر اتفاق کیا۔ اس مقصد کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
تاہم، تعینات کیے جانے والے فوجی دستوں کی تعداد اور مخصوص کردار کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔
یہ فیصلہ تینوں ممالک کے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت کیا گیا ہے۔
سعودی تیل تنصیبات کو خطرات
حوثیوں کے حملوں کے دعووں سے سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی خطرات لاحق ہیں۔
رپورٹس میں آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔ ان دعووں کی مکمل آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
بحیرۂ احمر اور باب المندب کی کشیدہ صورتحال عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے بھی اہم ہے۔ باب المندب عالمی تجارت کا اہم بحری راستہ ہے۔
اقوام متحدہ کو انسانی صورتحال پر تشویش
یمن میں نئی لڑائی نے انسانی بحران کو مزید سنگین کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق حالیہ لڑائی کے بعد ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
بحیرۂ احمر اور باب المندب میں کشیدگی سے عالمی تجارت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ تیل کی ترسیل پر بھی دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
یمن میں جاری لڑائی کے باعث خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر فریقوں کو صورتحال پر تشویش ہے۔
