Table of Contents
تہران: ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ میجر جنرل محسن رضائی نے کہا ہے کہ ایران نے اپنی شرائط امریکا تک پہنچا دی ہیں۔ ان کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔
محسن رضائی کی آذربائیجان کے نائب وزیراعظم سے ملاقات
محسن رضائی نے یہ بیان تہران میں آذربائیجان کے نائب وزیراعظم شاہین مصطفایف سے ملاقات کے دوران دیا۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ ایک مشکل صورت حال میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق امریکی صدر نہ مذاکرات کر پا رہے ہیں اور نہ جنگ کا فیصلہ کر رہے ہیں۔
محسن رضائی نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے مایوسی کے باعث فوجی کارروائی میں فضائی محاصرہ اختیار کیا ہے۔ یہ ان کا بیان ہے اور اس کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔
ایران کی سات نکاتی تجاویز پر امریکی جواب کا انتظار
محسن رضائی نے کہا کہ ایران نے امریکا کو اپنی سات نکاتی تجاویز سے آگاہ کردیا ہے۔ ان کے مطابق تہران امریکی جواب کا انتظار کر رہا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق ان تجاویز کا اہم حصہ آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق ہے۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی کہا ہے کہ منصوبے کے تحت ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے شرائط پیش کی ہیں۔
عراقچی کے مطابق ایران کی تجاویز پر عمل درآمد کے بعد سات روزہ منصوبے کے تحت آبنائے ہرمز دوبارہ کھولی جاسکتی ہے۔ اس کے بعد امریکا کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ایران کا قفقاز میں امن کے لیے تعاون کا اعلان
محسن رضائی نے کہا کہ ایران قفقاز میں امن کے قیام کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران خطے میں اپنی پالیسی پر قائم ہے۔ ان کے مطابق تہران امریکا کے خلاف اپنے دفاع کے لیے تیار ہے۔
آذربائیجان کی سرزمین سے متعلق مؤقف
ملاقات کے دوران آذربائیجان کے نائب وزیراعظم شاہین مصطفایف نے ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے آذری سرزمین استعمال ہونے کی تردید کی۔
ایرانی اور آذربائیجانی حکام کے درمیان یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اور آبنائے ہرمز کی صورت حال پر سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
