Table of Contents
کوپن ہیگن/واشنگٹن: امریکہ گرین لینڈ میں دو مزید فوجی مقامات پر اپنی موجودگی قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق یہ منصوبہ امریکہ، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے درمیان متوقع معاہدے کا حصہ ہے۔
معاہدے پر نیویارک میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر دستخط متوقع ہیں۔
تین باخبر ذرائع نے یہ معلومات دی ہیں۔
نارسارسواق اور میسٹرز وِگ شامل
ذرائع کے مطابق ان مقامات میں نارسارسواق شامل ہے۔
یہ جنوبی گرین لینڈ میں واقع ہے۔
امریکہ نے یہاں سرد جنگ کے دوران بلیو ویسٹ ون فوجی اڈہ قائم کیا تھا۔
امریکہ نے یہ اڈہ 1950 کی دہائی میں بند کر دیا تھا۔
دوسرا مقام مشرقی گرین لینڈ کا میسٹرز وِگ ہے۔
یہ فوجی چوکی اس وقت ڈنمارک کی سیریس ڈاگ سلیج پیٹرول کے زیر استعمال ہے۔
یہ یونٹ ڈنمارک کی اسپیشل فورسز کا حصہ ہے۔
معاہدے کی تفصیلات ابھی خفیہ
متوقع معاہدے کا مکمل متن ابھی عوام کے سامنے نہیں آیا۔
ذرائع کے مطابق اس کی بعض تفصیلات دستخط تک حتمی نہیں ہوں گی۔
تینوں ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر معلومات فراہم کیں۔
ڈنمارک اور گرین لینڈ کی حکومتوں نے فوری طور پر تبصرہ نہیں کیا۔
وائٹ ہاؤس نے بھی فوری جواب نہیں دیا۔
آرکٹک کی سکیورٹی میں نیٹو کا کردار
ڈنمارک کے مطابق معاہدے میں نیٹو کا اہم کردار ہوگا۔
اس کے تحت آرکٹک کی سکیورٹی صرف امریکہ اور ڈنمارک تک محدود نہیں رہے گی۔
ڈنمارک کا کہنا ہے کہ نیٹو خطے کی سکیورٹی میں ذمہ داری ادا کرے گا۔
یہ معاہدہ گرین لینڈ کی خودمختاری کا احترام بھی کرے گا۔
امریکہ کے پاس اس وقت گرین لینڈ میں پیٹوفک اسپیس بیس موجود ہے۔
ٹرمپ کا گرین لینڈ پر مؤقف
یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ کے کئی ماہ بعد سامنے آئی ہے۔
ٹرمپ طویل عرصے سے گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کی حمایت کرتے رہے ہیں۔
انہوں نے ماضی میں فوجی یا اقتصادی طاقت کے استعمال کا امکان بھی مسترد نہیں کیا۔
ان بیانات کے بعد نیٹو کے اندر سفارتی کشیدگی پیدا ہوئی۔
بعد میں ڈنمارک، گرین لینڈ اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات شروع ہوئے۔
مذاکرات کا مقصد گرین لینڈ سے متعلق اختلافات کو کم کرنا تھا۔
سرد جنگ میں امریکی فوجی موجودگی
سرد جنگ کے دوران امریکہ نے گرین لینڈ میں بڑی فوجی موجودگی قائم رکھی تھی۔
اس عرصے میں وہاں 17 امریکی فوجی تنصیبات موجود تھیں۔
امریکی فوجیوں کی تعداد 10 ہزار سے زیادہ تھی۔
اب گرین لینڈ میں صرف پیٹوفک اسپیس بیس امریکی فوج کے پاس ہے۔
رائٹرز کے مطابق وہاں تقریباً 150 امریکی فوجی موجود ہیں۔
