Table of Contents
چین نے ایران سے یمن کے حوثیوں کو روکنے میں مدد کرنے کی درخواست کی ہے۔
رائٹرز نے تین ایرانی ذرائع کے حوالے سے یہ رپورٹ دی ہے۔
ذرائع کے مطابق سعودی عرب نے حوثیوں کے بڑھتے حملوں پر چین سے مدد مانگی تھی۔
اس کے بعد بیجنگ نے تہران سے حوثیوں پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کو کہا۔
مقصد خطے میں کشیدگی کو مزید پھیلنے سے روکنا ہے۔
سعودی عرب کی چین سے مدد کی درخواست
رائٹرز کے مطابق حوثیوں کی حالیہ کارروائیوں نے سعودی عرب کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔
ایرانی ذرائع کے مطابق ریاض نے اسی صورتحال میں بیجنگ سے رابطہ کیا۔
حوثیوں نے بحیرہ احمر کے ساحل اور باب المندب کے قریب سرگرمیاں بڑھائی ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس صورتحال سے سعودی تیل کی برآمدات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
جہاز رانی کو بھی مزید خطرات لاحق ہونے کی بات کی گئی ہے۔
چین نے عوامی سطح پر تحمل اور مذاکرات پر زور دیا ہے۔
بیجنگ نے محفوظ جہاز رانی کی بحالی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
تاہم، ایرانی ذرائع کے مطابق نجی پیغام زیادہ واضح تھا۔
چین چاہتا ہے کہ ایران حوثیوں پر اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرے۔
ایران کا چین کو کیا جواب؟
تین ایرانی ذرائع کے مطابق تہران نے اپنا مؤقف بھی واضح کیا۔
ایران کا کہنا تھا کہ علاقائی امن اور استحکام جنگ کے خاتمے سے جڑا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جاری جنگ کے خاتمے پر زور دیا۔
چینی حکام نے ایران کو کوئی واضح دھمکی نہیں دی۔
ذرائع کے مطابق بیجنگ نے معاشی دباؤ کا بھی کوئی اشارہ نہیں دیا۔
یہ بھی واضح نہیں کہ چین کا پیغام تہران تک کس ذریعے سے پہنچا۔
یہ بھی معلوم نہیں کہ پیغام ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے چین کے دورے کے دوران دیا گیا یا نہیں۔
چین نے ایران سے رابطے کی تصدیق کی
چینی وزارت خارجہ نے رائٹرز کی درخواست پر بیان جاری کیا۔
وزارت نے کہا کہ چین علاقائی کشیدگی کو یمن اور بحیرہ احمر تک پھیلتا نہیں دیکھنا چاہتا۔
بیجنگ کے مطابق علاقائی عدم استحکام کسی فریق کے مفاد میں نہیں۔
چین نے تمام ممالک کی خودمختاری اور سلامتی کے احترام پر زور دیا۔
اس نے اہم تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے کا مطالبہ بھی کیا۔
چینی وزارت خارجہ نے مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔
ایران کی وزارت خارجہ اور سعودی حکومت نے رائٹرز کو فوری جواب نہیں دیا۔
چین کے لیے بحیرہ احمر کی اہمیت
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم راستے ہیں۔
ان راستوں میں کشیدگی سے توانائی کی ترسیل بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
رائٹرز کے مطابق یہ صورتحال چین کے لیے بھی اہم ہے۔
چین خطے سے تیل حاصل کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے۔
ایران بھی چین کا اہم توانائی شراکت دار ہے۔
Kpler کے مطابق 2025 میں ایران کی سمندری تیل برآمدات کا 80 فیصد سے زیادہ چین گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق مقدار اوسطاً 14 لاکھ بیرل یومیہ رہی۔
چین اور ایران کے درمیان تجارتی تعلقات
چین ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔
چین ایرانی تیل کا اہم خریدار بھی ہے۔
ایران کے لیے چین اقتصادی اور سفارتی لحاظ سے اہم ہے۔
چین کو بھی مشرق وسطیٰ میں اپنے تجارتی مفادات کا تحفظ درکار ہے۔
واشنگٹن کے مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے ایران پروگرام کے ڈائریکٹر ایلکس واٹنکا نے بھی اس پہلو کی نشاندہی کی۔
ان کے مطابق چین ایران پر اثر و رسوخ رکھنے والے چند ممالک میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ چین کی توانائی ضروریات کے لیے اہم ہے۔
واٹنکا کے مطابق چین کی تیل درآمدات کا تقریباً نصف حصہ اسی خطے سے آتا ہے۔
چین اور خلیج تعاون کونسل کے ممالک کے درمیان تجارت تقریباً 300 ارب ڈالر سالانہ ہے۔
چین نے ماضی میں بھی سفارتی کردار ادا کیا
چین نے 2023 میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی پیش رفت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
بیجنگ نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بحال کرانے والے معاہدے میں ثالثی کی تھی۔
اس پیش رفت نے کئی سال کی کشیدگی کم کرنے میں مدد دی تھی۔
تاہم، ایران میں چین کے کردار پر کچھ تحفظات بھی موجود ہیں۔
ناقدین نے دونوں ممالک کے 25 سالہ تعاون معاہدے کے بعد سرمایہ کاری کی رفتار پر سوال اٹھائے ہیں۔
خاص طور پر غیر تیل تجارت اور سرمایہ کاری کی سطح پر تنقید ہوئی ہے۔
ایران میں بعض حلقے خلیجی عرب ممالک کے مقابلے میں کم چینی سرمایہ کاری پر بھی اعتراض کرتے ہیں۔
حوثیوں پر چینی دباؤ کا امتحان
رائٹرز کے مطابق یہ واضح نہیں کہ ایران چین کی درخواست پر کیا اقدام کرے گا۔
ایرانی ذرائع کے مطابق تہران کے فیصلوں پر کئی عوامل اثر انداز ہوں گے۔
ان میں سیاسی، اقتصادی اور تزویراتی ترجیحات شامل ہیں۔
ایک مغربی سفارت کار نے کہا کہ ایران اور چین کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔
ان کے مطابق چین چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز کھلی رہے۔
بیجنگ بحیرہ احمر میں محفوظ جہاز رانی بھی چاہتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق اصل سوال یہ ہے کہ چین اپنے مطالبے کے ساتھ کتنا دباؤ ڈال سکتا ہے۔
اس معاملے میں بیجنگ کے عملی اقدامات اس کے عزم کی واضح علامت بن سکتے ہیں۔
