Table of Contents
پشاور: خیبرپختونخوا اسمبلی نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے صوبوں سے متعلق بیان کے خلاف قرارداد منظور کرلی۔
قرارداد کثرت رائے سے منظور کی گئی۔
قرارداد میں مریم نواز کے بیان کی مذمت کی گئی ہے۔
اس میں آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
معمول کا ایجنڈا معطل کرکے بحث
اسمبلی کا اجلاس اسپیکر بابر سلیم سواتی کی صدارت میں ہوا۔
وزیر قانون نے معمول کا ایجنڈا معطل کرنے کی درخواست کی۔
انہوں نے مریم نواز کے بیان پر بحث کی تجویز پیش کی۔
اسپیکر نے ایوان سے منظوری حاصل کرکے ایجنڈا معطل کردیا۔
اپوزیشن ارکان نے ایجنڈا معطل کرنے کی مخالفت کی۔
بعد ازاں مریم نواز کے بیان پر ایوان میں بحث ہوئی۔
حکومتی ارکان کی مریم نواز پر تنقید
صوبائی وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد نے مریم نواز کے بیان پر اعتراض کیا۔
انہوں نے اسے توہین آمیز اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔
ان کے مطابق مریم نواز نے پنجاب کو بعض پڑوسی صوبوں سے خطرہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اس مؤقف سے بھارت کو بری الذمہ قرار دینے کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔
ڈاکٹر امجد نے پنجاب میں مختلف سیاسی رہنماؤں پر ہونے والے حملوں کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے لیاقت علی خان اور بے نظیر بھٹو کے قتل کا حوالہ دیا۔
انہوں نے عمران خان پر پنجاب میں ہونے والے حملے کا بھی ذکر کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے معاملے پر کسی ایک صوبے کو ذمہ دار قرار نہیں دینا چاہیے۔
سیاسی اور تاریخی حوالوں پر بحث
ڈاکٹر امجد نے مسلم لیگ ن اور طالبان کے مبینہ رابطوں سے متعلق بھی الزامات عائد کیے۔
انہوں نے ماضی کے سیاسی واقعات اور مختلف رہنماؤں کے بیانات کا حوالہ دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے شہریوں کو دہشت گرد قرار دینا درست نہیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے مختلف سیاسی رہنما بھی ملکی سیاست میں فعال ہیں۔
صوبائی وزرا شفیع جان اور مینا خان نے بھی مریم نواز کے بیان پر تنقید کی۔
معاون خصوصی ملک عدیل اور شفیع اللہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
ارکان نے مریم نواز کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔
انہوں نے دہشت گردی کے معاملے پر خیبرپختونخوا کو موردِ الزام ٹھہرانے کی مخالفت کی۔
مسلم لیگ ن کے ارکان کا مؤقف
مسلم لیگ ن کے ارکان نے حکومتی ارکان کے الزامات مسترد کردیے۔
انہوں نے کہا کہ مریم نواز کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔
لیگی ارکان کے مطابق بیان کا مقصد خیبرپختونخوا کے عوام کو نشانہ بنانا نہیں تھا۔
انہوں نے مریم نواز کے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے الزامات کو مسترد کیا۔
اجلاس کے دوران سیاسی جماعتوں کے ارکان نے اپنے اپنے مؤقف پیش کیے۔
بحث کے بعد ایوان نے مذمتی قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی۔
