Table of Contents
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کے معاونتی پیکیج پر نظرثانی کردی ہے۔
یہ پیکیج دورانِ ملازمت وفات پانے والے ملازمین کے خاندانوں کے لیے ہے۔
سیکیورٹی واقعات میں شہید ہونے والے ملازمین کے خاندان بھی اس میں شامل ہیں۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے اس حوالے سے آفس میمورنڈم جاری کردیا ہے۔
نظرثانی شدہ پیکیج 28 اگست 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔
حکومت نے شہادت اور عمومی وفات کے لیے الگ مراعات مقرر کی ہیں۔
شہید ملازمین کے ورثا کے لیے 2 کروڑ تک گرانٹ
دہشت گردی اور عسکریت پسندی میں جاں بحق ملازمین شہید تصور ہوں گے۔
ٹارگٹ کلنگ اور پرتشدد مزاحمت کے متاثرین بھی اس زمرے میں شامل ہیں۔
سرکاری فرائض کے دوران مخاصمانہ کارروائی میں ہلاکت بھی شامل ہوگی۔
شہید ملازمین کے ورثا کو گریڈ کے مطابق یکمشت گرانٹ دی جائے گی۔
- بی ایس 1 تا 10: ایک کروڑ روپے
- بی ایس 11 تا 15: ایک کروڑ 25 لاکھ روپے
- بی ایس 16 تا 17: ایک کروڑ 50 لاکھ روپے
- بی ایس 18 تا 19: ایک کروڑ 80 لاکھ روپے
- بی ایس 20 اور اس سے اوپر: 2 کروڑ روپے
تنخواہ اور پنشن کی سہولت
شہید ملازم کے خاندان کو سپر انویویشن تک مکمل تنخواہ ملتی رہے گی۔
الاؤنسز اور ایڈہاک ریلیف بھی اس میں شامل ہوں گے۔
ریٹائرمنٹ کے وقت مکمل پنشن بھی دی جائے گی۔
پنشن کا تعین متعلقہ قواعد کے مطابق کیا جائے گا۔
بی ایس 18 اور اس سے اوپر کے خاندانوں کو گاڑی یا مساوی رقم ملے گی۔
اس مقصد کے لیے 1300 سی سی گاڑی مقرر کی گئی ہے۔
بی ایس 16 اور 17 کے خاندانوں کو 1000 سی سی گاڑی ملے گی۔
متبادل طور پر اس کی مساوی رقم بھی دی جاسکے گی۔
مکان کی خریداری کے لیے مالی معاونت
شہید ملازمین کے ورثا کو مکان کی خریداری کے لیے بھی رقم ملے گی۔
- بی ایس 1 تا 10: ایک کروڑ 35 لاکھ روپے
- بی ایس 11 تا 15: ایک کروڑ 75 لاکھ روپے
- بی ایس 16 تا 17: 2 کروڑ 50 لاکھ روپے
- بی ایس 18 تا 19: 3 کروڑ روپے
- بی ایس 20 اور اس سے اوپر: 5 کروڑ روپے تک
حکومت شہید ملازمین کے بچوں کو پوسٹ گریجویشن تک مفت تعلیم دے گی۔
تعلیمی اخراجات بھی حکومت برداشت کرے گی۔
بیوہ یا بچوں میں سے ایک فرد کو مستقل ملازمت دی جائے گی۔
یہ ملازمت بی ایس 1 تا 15 میں بغیر اشتہار فراہم کی جائے گی۔
شہید ملازمین کے خاندانوں کو مفت طبی سہولیات بھی ملیں گی۔
ہاؤس بلڈنگ اور موٹر سائیکل ایڈوانس کی بقایا رقم معاف ہوگی۔
عمومی وفات پر بھی مالی معاونت
قدرتی یا عمومی وفات کی صورت میں بھی گرانٹ مقرر کی گئی ہے۔
- بی ایس 1 تا 4: 6 لاکھ روپے
- بی ایس 5 تا 10: 9 لاکھ روپے
- بی ایس 11 تا 15: 12 لاکھ روپے
- بی ایس 16 تا 17: 15 لاکھ روپے
- بی ایس 18 تا 19: 24 لاکھ روپے
- بی ایس 20 اور اس سے اوپر: 30 لاکھ روپے
پلاٹ کی خریداری کے لیے بھی گریڈ کے مطابق مالی مدد دی جائے گی۔
بی ایس 1 تا 8 کے لیے 20 لاکھ روپے مقرر ہیں۔
بی ایس 9 تا 16 کے لیے یہ رقم 50 لاکھ روپے ہوگی۔
بی ایس 17 اور اس سے اوپر کے لیے 70 لاکھ روپے مقرر ہیں۔
پنشن اور رہائش کی سہولت
وفات پانے والے ملازم کے خاندان کو 100 فیصد پنشن ملے گی۔
دس سال سے کم سروس پر بھی کم از کم دس سال کا حساب ہوگا۔
سرکاری رہائش کی سہولت بھی مقررہ مدت تک جاری رہے گی۔
کرائے کے مکان کی سہولت بھی اس میں شامل ہے۔
یہ سہولت ریٹائرمنٹ کی عمر یا کم از کم پانچ سال تک جاری رہے گی۔
دونوں میں سے جو مدت زیادہ ہوگی، اسے بنیاد بنایا جائے گا۔
حادثاتی موت اور معذوری پر امداد
دورانِ ملازمت حادثاتی موت پر بھی یکمشت گرانٹ مقرر کی گئی ہے۔
- بی ایس 1 تا 10: 30 لاکھ روپے
- بی ایس 11 تا 15: 40 لاکھ روپے
- بی ایس 16 تا 17: 45 لاکھ روپے
- بی ایس 18 تا 19: 50 لاکھ روپے
- بی ایس 20 اور اس سے اوپر: 70 لاکھ روپے
معذوری کی صورت میں بھی مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔
ورثا کی معلومات پہلے سے محفوظ رکھنے کی ہدایت
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے وزارتوں اور محکموں کو اہم ہدایت جاری کردی ہے۔
تمام ملازمین کے خاندانوں کی تازہ معلومات محفوظ رکھنے کو کہا گیا ہے۔
جی پی فنڈ کے لیے نامزدگی بھی پہلے سے ریکارڈ کرنے کی ہدایت ہے۔
اس اقدام کا مقصد ورثا کو بروقت سہولیات فراہم کرنا ہے۔
حکومت کے مطابق ناخوشگوار واقعے کی صورت میں ادائیگی میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔
منظور شدہ سہولیات ایک ماہ کے اندر فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
