Table of Contents
پاکستان کرکٹ ٹیم کی دورۂ انگلینڈ میں ناقص کارکردگی کے بعد اہم تبدیلی سامنے آئی ہے۔
سابق کپتان مصباح الحق نے قومی سلیکشن کمیٹی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مصباح الحق نے اپنا استعفیٰ پاکستان کرکٹ بورڈ کو بھیج دیا ہے۔
کھلاڑیوں کے انتخاب پر مشاورت نہ ہونے کا دعویٰ
ذرائع کے مطابق استعفے کی بڑی وجہ کھلاڑیوں کا انتخاب ہے۔
رپورٹس کے مطابق انگلینڈ بھیجے جانے والے کھلاڑیوں پر مصباح الحق سے مشاورت نہیں کی گئی۔
اس معاملے پر انہیں تحفظات تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سلیکشن کمیٹی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
مصباح الحق بورڈ کے اس طریقہ کار سے ناخوش تھے۔
اسی وجہ سے انہوں نے سلیکشن کمیٹی چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
پی سی بی نے کئی کھلاڑی واپس بھیجے
انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں پاکستان کو مسلسل شکستوں کا سامنا ہے۔
اس کے بعد پی سی بی نے ٹیم میں بڑی تبدیلیاں کیں۔
بورڈ نے سات کھلاڑیوں کو وطن واپس بھیج دیا۔
ان کھلاڑیوں میں محمد رضوان بھی شامل ہیں۔
سلمان علی آغا اور امام الحق کو بھی واپس بھیجا گیا ہے۔
ٹیم مینجمنٹ میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
مصباح الحق کے استعفے پر پی سی بی کا مؤقف
مصباح الحق کے استعفے کی خبریں سامنے آنے کے بعد معاملہ مزید اہم ہو گیا ہے۔
بعض رپورٹس کے مطابق پی سی بی نے استعفیٰ تاحال باضابطہ طور پر قبول نہیں کیا۔
بورڈ کی جانب سے حتمی فیصلہ سامنے آنا باقی ہے۔
ٹیم میں تبدیلیوں پر پہلے ہی تنقید
پاکستانی ٹیم میں حالیہ تبدیلیوں پر سابق کرکٹرز بھی سوال اٹھا چکے ہیں۔
شاہد آفریدی نے ٹیم کے انتخاب پر حیرت کا اظہار کیا۔
مکی آرتھر نے بھی مسلسل تبدیلیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
ان کے مطابق ٹیم کو استحکام اور تسلسل کی ضرورت ہے۔
دیگر سابق کرکٹرز نے بھی پی سی بی کی حکمت عملی پر سوالات اٹھائے ہیں۔
سلیکشن کمیٹی کے مستقبل پر سوالات
مصباح الحق کے استعفے سے سلیکشن کمیٹی کے مستقبل پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
اب پی سی بی کو سلیکشن کے نظام کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا۔
بورڈ آئندہ دنوں میں اس حوالے سے اہم فیصلے کر سکتا ہے۔
پاکستان کو انگلینڈ کے خلاف سیریز کا تیسرا ٹیسٹ بھی کھیلنا ہے۔
یہ میچ 9 ستمبر سے برمنگھم میں شروع ہوگا۔
قومی ٹیم کو سیریز میں واپسی کے لیے تیسرے ٹیسٹ میں کامیابی درکار ہے۔
