Table of Contents
واشنگٹن: امریکی افواج نے ایران کے لارک جزیرے پر دو لانچرز کو نشانہ بنایا ہے۔
ایک امریکی اہلکار نے اتوار کو اس کارروائی کی تصدیق کی۔ یہ جولائی کے آخر کے بعد ایران پر پہلا معلوم امریکی حملہ ہے۔
امریکی اہلکار کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کے اہلکار کارروائی کی تیاری کر رہے تھے۔ وہ آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں نصب کرنے کی تیاری میں تھے۔
امریکی حکام کے مطابق لانچرز سے راکٹ داغے جانے کا خدشہ تھا۔ ان راکٹوں میں سمندری بارودی سرنگیں موجود تھیں۔
ایران کا جانی نقصان کا دعویٰ
ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکی حملے کی تصدیق کی ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملے میں فوجی اور شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔
پاسداران انقلاب نے امریکی کارروائی کا جواب دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔ تہران نے حملے کو جارحیت قرار دیتے ہوئے جوابی کارروائی کا عندیہ دیا۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے بھی امریکی کارروائی کی خبر دی۔ ایجنسی کے مطابق امریکا نے جزیرے پر ڈرون حملہ کیا۔
آبنائے ہرمز پر بڑھتی کشیدگی
لارک جزیرہ آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے بارودی سرنگوں سے متعلق خبردار کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کے بین الاقوامی پانیوں سے بارودی سرنگیں ہٹا دی گئی ہیں۔
ٹرمپ نے نئی بارودی سرنگیں بچھانے والے جہازوں کے خلاف کارروائی کی دھمکی بھی دی تھی۔
امریکی فوج نے حال ہی میں آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی مکمل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ وہ اہم تجارتی راستے کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی
لارک جزیرے پر حملہ جولائی کے آخر کے بعد پہلی معلوم امریکی کارروائی ہے۔ حالیہ ہفتوں میں دونوں ممالک کے درمیان براہ راست لڑائی میں نسبتاً کمی آئی تھی۔
تازہ حملے نے خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھا دی ہے۔ اس کے اثرات آبنائے ہرمز کی سلامتی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔ جنگ سے پہلے دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل کی کھپت اسی راستے سے گزرتی تھی۔
