Table of Contents
واشنگٹن: امریکی فوجی اخبار ’’اسٹارز اینڈ اسٹرائپس‘‘ کے تین صحافیوں نے پینٹاگون کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔
صحافیوں نے اپنی برطرفی کو آزادیٔ اظہار کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں ایک خبر شائع کرنے کے بعد ملازمت سے ہٹایا گیا۔
مدعیان میں اخبار کے سابق پبلشر میکس لیڈرر شامل ہیں۔ ایڈیٹر ان چیف ایرک سلاوِن بھی مقدمے میں فریق ہیں۔
مشرق وسطیٰ کی نمائندہ لارا کورٹے بھی مدعیان میں شامل ہیں۔
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی رپورٹ
صحافیوں کے مطابق ان کی رپورٹ 11 اگست کو شائع ہوئی تھی۔ رپورٹ میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کے حالات کا ذکر کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق جہاز پر تقریباً 5 ہزار اہلکار موجود تھے۔ انہیں طویل تعیناتی کے دوران کئی مشکلات کا سامنا تھا۔
ان مشکلات میں خوراک اور پانی کی قلت شامل تھی۔ ڈاک کی ترسیل میں رکاوٹ بھی رپورٹ کا حصہ تھی۔
رپورٹ میں طویل اوقات کار کا بھی ذکر کیا گیا۔ اہلکاروں کو آرام کے محدود مواقع ملنے کی بات بھی سامنے آئی۔
صحافیوں کا آزادیٔ صحافت کا مؤقف
تینوں صحافیوں نے پینٹاگون کی کارروائی کو چیلنج کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے صحافتی آزادی متاثر ہوئی ہے۔
صحافیوں کے مطابق مذکورہ رپورٹ ان کے خلاف کارروائی کی اہم وجہ بنی۔ انہوں نے پینٹاگون کے اقدام کو آزادیٔ اظہار کے حق سے جوڑا ہے۔
پیٹ ہیگستھ نے رپورٹ مسترد کردی
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ ان الزامات کو مسترد کر چکے ہیں۔
ہیگستھ نے جہاز پر خراب حالات سے متعلق رپورٹس کو گمراہ کن قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق رپورٹ میں پیش کی گئی صورتحال درست عکاسی نہیں کرتی۔
دوسری جانب صحافی اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔ انہوں نے اپنی برطرفی کو قانونی طور پر چیلنج کیا ہے۔
یو ایس ایس ابراہم لنکن کی طویل تعیناتی
یہ مقدمہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب جہاز کی طویل تعیناتی بھی زیر بحث ہے۔
یو ایس ایس ابراہم لنکن 200 سے زائد دن مسلسل سمندر میں رہا ہے۔ اب جہاز آرام اور رسد کے لیے تھائی لینڈ کی جانب بڑھ رہا ہے۔
طویل تعیناتی کے دوران عملے کی فلاح و بہبود پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ تازہ مقدمہ ان خدشات اور صحافتی آزادی کی بحث کو مزید نمایاں کرتا ہے۔
