Table of Contents
ڈھاکا: بنگلادیش نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہونے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
یہ معاہدہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پایا تھا۔
بنگلادیش کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ ہمایوں کبیر نے اس حوالے سے بیان دیا۔
انہوں نے کہا کہ ڈھاکا نے معاہدے میں شمولیت میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
بنگلادیش کا معاہدے پر مثبت مؤقف
ہمایوں کبیر کے مطابق بنگلادیش اس معاملے کو مثبت انداز میں دیکھ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک کے درمیان سکیورٹی تعاون غیر معمولی بات نہیں ہے۔
ان کے مطابق بنگلادیش بھی ایسے تعاون کا حصہ بن سکتا ہے۔
تاہم بنگلادیش نے ابھی معاہدے میں شامل ہونے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
یہ معاملہ اس وقت مشاورت کے مرحلے میں ہے۔
مکہ دفاعی معاہدہ کیا ہے؟
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست کو معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
تینوں ممالک نے مکہ میں سربراہی اجلاس منعقد کیا تھا۔
معاہدے کا مقصد مشترکہ سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔
اس کے تحت دفاعی تعاون کو مزید بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
تینوں ممالک نے خطے میں امن کے فروغ کا عزم بھی ظاہر کیا۔
معاہدے پر تینوں رہنماؤں کے دستخط
مکہ سربراہی اجلاس میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف شریک ہوئے۔
ترک صدر رجب طیب اردوان بھی اجلاس میں موجود تھے۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔
تینوں رہنماؤں نے الصفا پیلس میں معاہدے پر دستخط کیے۔
بنگلادیش کی ممکنہ شمولیت
بنگلادیش کی دلچسپی سے معاہدے کا دائرہ وسیع ہونے کا امکان پیدا ہوا ہے۔
تاہم ڈھاکا نے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
بنگلادیش اپنی قومی ترجیحات کو بھی پیش نظر رکھے گا۔
اس معاملے پر مزید مشاورت کے بعد آئندہ پیش رفت متوقع ہے۔
