Table of Contents
دمشق: شام نے اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی مذاکرات جلد دوبارہ شروع ہونے کی امید ظاہر کی ہے۔
شامی وزیر خارجہ اسد الشیبانی نے کہا ہے کہ مذاکرات شام کی سرزمین سے اسرائیلی فوج کے انخلا کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔
انہوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ موجودہ صورتحال کو ایک تاریخی موقع کے طور پر دیکھے۔
اسرائیلی حملے روکنا ترجیح ہے
اسد الشیبانی نے کہا کہ شام کی پہلی ترجیح اسرائیلی حملے روکنا ہے۔
ان کے مطابق اس مقصد کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات ضروری ہیں۔
شامی وزیر خارجہ نے یہ بات دمشق میں رائٹرز کو ایک انٹرویو میں کہی۔
یہ انٹرویو اسرائیل کی جانب سے شامی فوجی اڈے پر حملے کے چند دن بعد سامنے آیا۔
مذاکرات کئی ماہ سے معطل
اسد الشیبانی کے مطابق ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سیکیورٹی مذاکرات معطل ہوگئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ شامی فوجی اڈے پر اسرائیلی حملے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان رابطہ بھی منقطع ہوگیا۔
تاہم شامی وزیر خارجہ نے مذاکرات کی بحالی کی امید ظاہر کی۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ رابطہ ضروری ہے۔ تاہم یہ رابطہ نتیجہ خیز بھی ہونا چاہیے۔
اسد الشیبانی نے واضح کیا کہ شام کو فی الحال اسرائیل پر اعتماد نہیں ہے۔
امریکا مذاکرات کی بحالی کے لیے کوشاں
امریکا ایک عرصے سے شام اور اسرائیل کے درمیان سیکیورٹی معاہدے کے لیے کوشش کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق واشنگٹن اسرائیل پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔
تاہم دونوں ملکوں کے درمیان کئی معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔
شام کا اسرائیل سے مذاکرات پر زور
اسرائیل نے گزشتہ عرصے کے دوران شام میں فوجی کارروائیاں کی ہیں۔
اسرائیلی حکام نے ان کارروائیوں کو سیکیورٹی خدشات سے جوڑا ہے۔
شامی حکومت اسرائیلی حملوں اور فوجی موجودگی کی مخالفت کرتی ہے۔
اسد الشیبانی نے کہا کہ اسرائیل نے طاقت کے ذریعے اپنی سیکیورٹی قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔
ان کے بقول یہ حکمت عملی کامیاب نہیں ہوئی۔
مذاکرات کی تاریخ طے نہیں ہوئی
شامی وزیر خارجہ نے کہا کہ مذاکرات جلد دوبارہ شروع ہونے کی امید ہے۔
تاہم مذاکرات کی کوئی حتمی تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی۔
اسد الشیبانی نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ معاملات میں پیش گوئی کرنا مشکل ہے۔
انہوں نے کہا کہ شام اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ مستحکم تعلقات چاہتا ہے۔
ان کے مطابق شام امن، سفارت کاری اور علاقائی استحکام کے لیے اپنا ہاتھ بڑھا رہا ہے۔
