Table of Contents
اسلام آباد: اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے یمن کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یمن ایک بار پھر وسیع تنازع کی طرف بڑھنے کے خطرے سے دوچار ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یمن پر بریفنگ کے دوران سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ حالیہ کشیدگی نے اپریل 2022 کی جنگ بندی کے بعد پیدا ہونے والے نسبتاً سکون کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
پاکستان کو یمن میں بڑھتی کشیدگی پر تشویش
پاکستانی مندوب نے حوثیوں کے حالیہ حملوں اور الحدیدہ، ماریب اور حضرموت سمیت مختلف علاقوں میں شہریوں کی ہلاکتوں پر تشویش ظاہر کی۔
انہوں نے کہا کہ مزید کشیدگی یمنی عوام کی مشکلات میں اضافہ کرے گی۔ اس کے ساتھ سفارتی کوششوں کے لیے دستیاب گنجائش بھی محدود ہو جائے گی۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے یمن کے مسئلے کے سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے تمام فریقین سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل بھی کی۔
سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار
پاکستان نے حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کی شدید مذمت کی۔ پاکستانی مندوب نے سعودی عرب کے خلاف دھمکیوں کو بھی قابل مذمت قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایسی کارروائیاں علاقائی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے مملکت کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔
تجارتی جہاز پر حملے کی بھی مذمت
پاکستان نے بحیرہ احمر، خلیج عدن اور باب المندب میں تجارتی جہاز رانی کے خلاف حملوں کی بھی مذمت کی۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے 11 اگست کو تجارتی بحری جہاز تہامہ پر ہونے والے حملے کا حوالہ دیا۔ ان کے مطابق حملے میں تین پاکستانی اور ایک انڈونیشیائی عملہ ہلاک ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ واقعے میں سات دیگر افراد بھی زخمی ہوئے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ ایسے حملے علاقائی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ یہ جہاز رانی کی آزادی اور عالمی تجارت کے بلاتعطل بہاؤ کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سمندری جہاز رانی اور بحری جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ اس سلسلے میں بین الاقوامی قانون کا احترام بھی ضروری ہے۔
اقوام متحدہ کے عملے کی رہائی کا مطالبہ
پاکستان نے یمن میں اقوام متحدہ، انسانی ہمدردی کے اداروں اور سفارتی عملے کی مبینہ من مانی حراست کی بھی مذمت کی۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے زیر حراست افراد کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ یمن کی شدید انسانی ضروریات سلامتی کونسل کی توجہ کا مرکز رہنی چاہئیں۔
ان کے مطابق نئی لڑائی، معاشی بحران اور غذائی عدم تحفظ انسانی صورتحال کو مزید خراب کر سکتے ہیں۔ عالمی برادری کو یمن کے لیے درکار امدادی فنڈز کی کمی دور کرنا ہوگی۔
سیاسی عمل کی بحالی پر زور
پاکستان نے یمن میں کشیدگی کم کرنے اور قابل اعتماد سیاسی عمل بحال کرنے پر زور دیا۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرونڈبرگ اور انڈر سیکرٹری جنرل ٹام فلیچر کی بریفنگ کا خیرمقدم کیا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں بریفنگز میں کشیدگی کم کرنے کی ضرورت نمایاں رہی۔
پاکستان نے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی کوششوں کو بھی سراہا۔ ان کوششوں میں یمنی فریقوں، علاقائی ممالک اور عالمی شراکت داروں سے رابطے شامل ہیں۔
سفیر نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو فوجی کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔
انہوں نے اقوام متحدہ کی سرپرستی میں نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
یمنی قیادت میں سیاسی حل ضروری
پاکستان نے کہا کہ یمن کے اتحاد، خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کا احترام ضروری ہے۔
سفیر عاصم افتخار احمد کے مطابق یمنی قیادت اور یمنی ملکیت میں اقوام متحدہ کی سہولت کاری سے ہونے والا سیاسی عمل ہی پائیدار حل کا مؤثر راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ یمنی عوام کئی برس سے جنگ اور شدید انسانی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہیں ایک اور کشیدگی کے نتائج نہیں بھگتنا چاہئیں۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں تمام کوششیں سیاسی عمل کے لیے سازگار ماحول بحال کرنے پر مرکوز ہونی چاہئیں۔
انہوں نے یقین دلایا کہ پاکستان یمن میں پائیدار اور پرامن سیاسی تصفیے کے لیے مخلصانہ عالمی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
