Table of Contents
نئی دہلی: بھارت اور چین کے درمیان متنازع ہمالیائی سرحد پر ایک بار پھر کشیدگی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق دونوں ممالک کی بارڈر فورسز کے درمیان حالیہ واقعات کے بعد سرحدی صورتحال پر تشویش بڑھ گئی ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ نے بھی سرحدی معاملات کو اہم قرار دیا ہے۔
ترجمان رندھیر جیسوال نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ بھارت چین کے ساتھ سرحدی معاملات کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔
انہوں نے سرحد پر امن برقرار رکھنے پر زور دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ سرحدی علاقوں میں امن اور سکون دونوں ممالک کے تعلقات کی سمت کا اہم پیمانہ ہے۔
اروناچل پردیش میں چینی اہلکاروں کی مبینہ پیش قدمی
بھارتی ویب سائٹ دی پرنٹ کی رپورٹ کے مطابق اروناچل پردیش کے اپر سوبانسری ضلع میں جولائی کے آخر میں صورتحال کشیدہ ہوئی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ تیکسن کے علاقے میں بھارتی اور چینی فوج کے گشتی دستے آمنے سامنے آئے۔
بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ چینی اہلکار بھارتی کنٹرول والے علاقے میں تقریباً 2.5 کلومیٹر تک داخل ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق چینی اہلکار بعد میں واپس چلے گئے۔
بھارتی ویب سائٹ کے مطابق اگست کے آغاز میں چینی اہلکار دوبارہ اس علاقے میں پہنچے۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ وہاں دو خیمے نصب کیے گئے۔
بھارتی دفاعی حکام نے رپورٹس مسترد کردیں
بھارتی دفاعی حکام نے ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کی۔
اروناچل پردیش میں بھارتی دفاعی ترجمان نے رپورٹس کو غیر مصدقہ قرار دیا۔
ترجمان کے مطابق سامنے آنے والی اطلاعات کی کوئی قابلِ اعتماد تصدیق نہیں ہوئی۔
اس کے باوجود مقامی سطح پر سرحدی صورتحال پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔
اروناچل پردیش کی ایک سیاسی جماعت سے وابستہ تحقیقاتی کمیٹی نے بھی معاملے کو سنجیدہ قرار دیا۔
کمیٹی نے تیکسن کے علاقے میں چینی فوج کی مبینہ موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا۔
چین نے صورتحال کو مستحکم قرار دے دیا
چین نے سرحد پر کشیدگی کی اطلاعات کے باوجود صورتحال کو مجموعی طور پر مستحکم قرار دیا ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں ممالک سفارتی اور فوجی ذرائع سے رابطے میں ہیں۔
بیجنگ کے مطابق دونوں ممالک سرحدی علاقوں میں امن اور سکون برقرار رکھنے پر متفق ہیں۔
چین اور بھارت کے درمیان سرحدی رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔
2020 کی گلوان جھڑپیں تعلقات پر اثرانداز
بھارت اور چین کے موجودہ سرحدی تنازع پر 2020 کے واقعات کے اثرات اب بھی موجود ہیں۔
جون 2020 میں وادی گلوان میں دونوں ممالک کی فوجوں کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی تھی۔
اس واقعے میں 20 بھارتی فوجی اور 4 چینی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔
اس کے بعد دونوں ممالک نے لائن آف ایکچوئل کنٹرول (LAC) پر بڑی تعداد میں فوجی تعینات کیے۔
کئی برس تک سرحد پر فوجی کشیدگی برقرار رہی۔
بھارت چین تعلقات میں بہتری کی کوششیں
2024 میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان مذاکرات ہوئے۔
ان مذاکرات کے بعد سرحدی کشیدگی کم کرنے کی کوششیں تیز ہوئیں۔
دونوں ممالک نے گشت کے انتظامات پر بھی اتفاق کیا۔
اس کے نتیجے میں بعض متنازع مقامات سے فوجی انخلا کا عمل مکمل ہوا۔
بھارتی حکام کے مطابق اس کے بعد دونوں ممالک نے تعلقات معمول پر لانے کی کوششیں جاری رکھیں۔
مئی 2026 میں بھی سرحدی امور پر مذاکرات ہوئے۔
ان مذاکرات میں سرحدی انتظام، حد بندی اور دونوں ممالک کے درمیان رابطوں پر بات چیت ہوئی۔
سرحدی امن دوطرفہ تعلقات کے لیے اہم
بھارت اور چین نے حالیہ برسوں میں تجارتی اور سفارتی روابط بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔
دونوں ممالک نے عوامی سطح پر رابطے بھی بحال کرنے کی کوشش کی ہے۔
تاہم سرحدی تنازع اب بھی دوطرفہ تعلقات میں بڑی رکاوٹ ہے۔
بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی جولائی میں چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے ملاقات کی تھی۔
اس موقع پر انہوں نے سرحدی علاقوں میں امن اور سکون کو معمول کے تعلقات کے لیے بنیادی شرط قرار دیا۔
بھارتی فوج کے سابق سربراہ جنرل اپیندر دویدی نے بھی جون میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول کی صورتحال پر بات کی تھی۔
ان کے مطابق صورتحال مستحکم ہے، لیکن سرحد اب بھی حساس ہے۔
دونوں جانب فوجی تعیناتی بھی برقرار ہے۔
