صنعا: یمن کی مسلح افواج کی جانب سے سعودی عرب کی بندرگاہوں کی طرف جانے والے بحری جہازوں کو دیے گئے انتباہ کے بعد مبینہ طور پر چھ تجارتی جہاز اپنا راستہ تبدیل کرنے پر مجبور ہوگئے۔
ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایک یمنی فوجی ذریعے نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ چھ جہاز سعودی عرب کی جانب روانہ تھے، تاہم یمنی مسلح افواج کی وارننگ کے بعد انہیں باب المندب اور سوئز کینال کی سمت واپس جانا پڑا۔
ذرائع کے مطابق یمن کی پارلیمان کی سربراہی کمیٹی نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ یمن نے امن کے تمام ممکنہ راستے اختیار کیے، لیکن اب سعودی عرب کی جانب سے محاصرے اور کشیدگی کے تسلسل کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ ریاض کو انتباہات اور تجاویز کو نظرانداز کرنے کے نتائج کی ذمہ داری خود اٹھانا ہوگی۔
یاد رہے کہ یمن کی مسلح افواج کے ترجمان جنرل یحییٰ سریع نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ سعودی عرب کی جانب سے یمن پر گزشتہ 12 برس سے جاری بری، بحری اور فضائی محاصرے کے جواب میں اب کسی بھی جہاز کو سعودی بندرگاہوں کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ترجمان نے خبردار کیا تھا کہ اس اعلان کی خلاف ورزی کرنے والے تمام جہاز یمن کی مسلح افواج کے ممکنہ اہداف تصور کیے جائیں گے۔
تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی، اور نہ ہی سعودی حکام یا بین الاقوامی بحری اداروں کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے آیا ہے۔

