لندن: برطانیہ کے وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار اینڈی برنہم نے اسرائیل کے حوالے سے برطانوی پالیسی مزید سخت کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ لیبر پارٹی کی قیادت سنبھالتے ہیں تو اسرائیلی حکومت کے خلاف زیادہ سخت مؤقف اختیار کیا جائے گا۔
ویڈیو بیان میں اینڈی برنہم نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں پر لیبر پارٹی کا ابتدائی مؤقف کافی سخت نہیں تھا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ پارٹی کو اس معاملے پر زیادہ واضح اور مضبوط مؤقف اپنانا چاہیے تھا۔
اینڈی برنہم نے غزہ سے متعلق لیبر پارٹی کے ابتدائی ردعمل پر معذرت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اسرائیلی کابینہ کے شدت پسند وزرا پر پابندیاں عائد کی جائیں اور اسرائیلی آبادکاریوں (یہودی بستیوں) کے ساتھ برطانیہ کے تجارتی روابط بھی ختم کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر انہیں پارٹی کی قیادت کا موقع ملا تو اسرائیل کے حوالے سے برطانیہ کی خارجہ پالیسی میں مزید سختی لائی جائے گی اور انسانی حقوق کے معاملات پر زیادہ واضح مؤقف اپنایا جائے گا۔
برنہم نے سابق لیبر رہنما کیئر اسٹارمر کے مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے غزہ میں پانی اور بجلی کی فراہمی بند کیے جانے کے اقدامات کی حمایت کی تھی، جس پر بعد ازاں مختلف سیاسی اور عوامی حلقوں کی جانب سے تنقید سامنے آئی۔
اینڈی برنہم کے ان بیانات کو برطانیہ میں اسرائیل اور غزہ سے متعلق جاری سیاسی بحث کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جہاں مختلف جماعتیں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کر رہی ہیں۔
