تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت ایک دوطرفہ عمل ہے، اور اگر واشنگٹن مفاہمتی یادداشت (MoU) پر عمل درآمد کرے گا تو تہران بھی اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کرے گا۔
اپنے بیان میں صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ غیر منطقی بیانات، بے بنیاد دھمکیوں اور سیاسی دباؤ کے مقابلے میں ایران کا مؤقف واضح اور مستقل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران ہر فیصلے میں عقل، تدبر اور انسانی وقار کو ترجیح دیتا ہے، جبکہ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ضرورت پڑنے پر فیصلہ کن اور جرات مندانہ دفاع بھی کرے گا۔
ایرانی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ معاہدوں کی کامیابی دونوں فریقوں کی جانب سے اپنے وعدوں کی پاسداری پر منحصر ہوتی ہے، اس لیے اگر امریکہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرے گا تو ایران بھی مفاہمتی یادداشت کے تحت کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کرے گا۔
اس سے قبل صدر پزشکیان نے اعلان کیا تھا کہ قطر میں منجمد ایرانی اثاثوں میں سے 6 ارب ڈالر جلد ایران کو منتقل کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق قطر میں موجود مجموعی 12 ارب ڈالر کے منجمد فنڈز میں سے ابتدائی مرحلے میں نصف رقم کی واپسی پر پیش رفت ہوئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور ایران و امریکہ کے درمیان سفارتی رابطے جاری ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ موجودہ علاقائی صورتحال مسلسل تبدیل ہو رہی ہے اور مختلف معاملات پر مذاکرات اور پیش رفت کا سلسلہ جاری ہے۔
صدر پزشکیان کے مطابق ایران خطے میں استحکام، سفارت کاری اور باہمی احترام کی بنیاد پر تعلقات کا خواہاں ہے، تاہم قومی مفادات اور خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
