Table of Contents
نیویارک: امریکا میں رومن کیتھولک چرچ سے وابستہ سان فرانسسکو آرچ ڈایوسیز نے بچوں کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کے تقریباً 530 متاثرین کو مجموعی طور پر 395 ملین امریکی ڈالر ادا کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ معاہدہ امریکی تاریخ میں کسی کیتھولک ڈایوسیز کی دیوالیہ پن کی کارروائی کے دوران ہونے والا اب تک کا سب سے بڑا مالی تصفیہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اعلان کے مطابق یہ معاہدہ آرچ ڈایوسیز کی چیپٹر 11 دیوالیہ پن کی کارروائی کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم اس پر عمل درآمد کے لیے ابھی امریکی دیوالیہ پن عدالت کے جج ڈینس مونٹالی کی حتمی منظوری درکار ہوگی۔
متاثرین کے لیے اہم پیش رفت
معاہدے کے تحت آرچ ڈایوسیز نے اس بات کا بھی عہد کیا ہے کہ ایسے تمام پادریوں کے نام منظرِ عام پر لائے جائیں گے جن پر نابالغ بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے معتبر الزامات ثابت یا قابلِ اعتماد قرار دیے گئے ہیں۔
چرچ انتظامیہ نے بچوں کے تحفظ کے نظام کو مزید مؤثر بنانے، نگرانی کے طریقہ کار کو مضبوط کرنے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے نئی حفاظتی پالیسیاں نافذ کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
آرچ بشپ کا بیان
سان فرانسسکو کے آرچ بشپ سالواتورے کورڈیلیونے نے کہا کہ چرچ متاثرین کی دل آزاری کو تسلیم کرتا ہے اور ان کی بحالی و معاونت کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کرتا رہے گا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ چرچ متاثرین کے لیے دعاگو ہے اور اس بات کے لیے پُرعزم ہے کہ ایسے جرائم کا مکمل خاتمہ نہ صرف چرچ بلکہ پورے معاشرے سے کیا جائے۔
واضح رہے کہ سان فرانسسکو آرچ ڈایوسیز ریاست کیلیفورنیا کے سان فرانسسکو، سان میٹیو اور مارین کاؤنٹیز میں تقریباً چار لاکھ پچاس ہزار کیتھولک افراد کی مذہبی خدمات انجام دیتی ہے۔
دیوالیہ پن کیوں اختیار کیا گیا؟
آرچ ڈایوسیز نے 2023 میں دیوالیہ پن کے تحفظ کے لیے درخواست دائر کی تھی، جب ریاست کیلیفورنیا میں قانون میں تبدیلی کے بعد تاریخی جنسی زیادتی کے متاثرین کو عدالتوں سے رجوع کرنے کے لیے اضافی مہلت فراہم کی گئی، جس کے نتیجے میں متعدد نئے مقدمات سامنے آئے۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران امریکا بھر میں دو درجن سے زائد کیتھولک ڈایوسیز نے اسی نوعیت کے سینکڑوں مقدمات کے باعث دیوالیہ پن کی درخواستیں دائر کی ہیں۔
امریکی تاریخ کا سب سے بڑا دیوالیہ پن تصفیہ
395 ملین ڈالر کا یہ معاہدہ نیویارک کی ڈایوسیز آف راک ویل سینٹر کے 323 ملین ڈالر کے سابقہ ریکارڈ کو بھی پیچھے چھوڑ گیا ہے، جو اب تک دیوالیہ پن کی کارروائی کے دوران ہونے والا سب سے بڑا تصفیہ سمجھا جاتا تھا۔
اگرچہ لاس اینجلس اور نیویارک کی آرچ ڈایوسیز اس سے بھی زیادہ مالیت کے تصفیے کر چکی ہیں، تاہم وہ دیوالیہ پن کی کارروائی کے بجائے عدالت سے باہر طے پائے تھے۔
متاثرین کا ردعمل
عدالت کی جانب سے مقرر کردہ متاثرین کی نمائندہ کمیٹی کے رکن اسٹیو مورینو نے معاہدے کو کئی برسوں کی قانونی جدوجہد کے بعد ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مالی معاوضہ متاثرین کی زندگی بھر کی ذہنی اور جذباتی تکلیف کا ازالہ تو نہیں کر سکتا، لیکن یہ معاہدہ ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو تسلیم کرنے اور ادارہ جاتی احتساب کی جانب ایک اہم قدم ضرور ہے۔
متاثرین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے حلقوں نے بھی اس پیش رفت کو چرچ میں شفافیت، جوابدہی اور بچوں کے تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں میں ایک نمایاں کامیابی قرار دیا۔
