نوگالس: امریکا اور میکسیکو کی سرحد پر 100 سے زائد کیتھولک بشپس، پادریوں، راہبات اور مذہبی کارکنوں نے ایک خصوصی دعائیہ جلوس اور عبادت میں شرکت کرتے ہوئے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تارکین وطن کے ساتھ عزت، احترام اور انسانی وقار کے مطابق برتاؤ کیا جائے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ جلوس امریکی ریاست ایریزونا کے سرحدی شہر نوگالس سے شروع ہوا اور سرحد عبور کرتے ہوئے میکسیکو کی ریاست سونورا کے ہم نام شہر تک پہنچا، جہاں دونوں ممالک کے مذہبی رہنماؤں نے مشترکہ طور پر دعا اور عبادت میں حصہ لیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹکسن کے بشپ جیمز مسکو نے کہا کہ چرچ کا بنیادی پیغام انسانیت، محبت اور باہمی احترام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ضروری ہے کہ تارکین وطن کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جائے جس کے وہ بطور انسان مستحق ہیں۔
عبادت کے بعد شرکاء نے مالا کی اجتماعی دعا کرتے ہوئے سرحد پار کی، جہاں ان کے میکسیکن ہم منصب بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے۔ شدید گرمی کے باوجود شرکاء نے اس مارچ کو تارکین وطن کے ساتھ اظہارِ یکجہتی قرار دیا۔
فرانسسکن راہبہ سسٹر ایلین میکنزی نے کہا کہ صحرا کی شدید گرمی مہاجرین کی جانوں کے لیے مستقل خطرہ بنی ہوئی ہے اور روزانہ ایسے افراد اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر سرحد عبور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
کیتھولک رہنماؤں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں، بڑے پیمانے پر ملک بدری، حراستی مراکز کی صورتحال اور امیگریشن چھاپوں پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق ان پالیسیوں نے تارکین وطن میں خوف اور غیر یقینی کی کیفیت پیدا کر دی ہے۔
یہ احتجاج ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی سپریم کورٹ نے حالیہ فیصلوں میں ٹرمپ انتظامیہ کو سرحد پر پناہ کے متلاشی افراد کو واپس بھیجنے اور لاکھوں ہیٹی اور شامی تارکین وطن کے عارضی تحفظات ختم کرنے کی اجازت دی ہے۔
ایل پاسو کے بشپ مارک سیٹز نے کہا کہ ٹیکساس کے حراستی مرکز کیمپ ایسٹ مونٹانا میں بعض اوقات مذہبی رہنماؤں کو قیدیوں تک رسائی بھی نہیں دی جاتی، جبکہ زیرِ حراست افراد کی بڑی تعداد کیتھولک عقیدے سے تعلق رکھتی ہے اور انہیں روحانی معاونت کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حراستی مراکز سے متعدد ہنگامی پیغامات موصول ہو رہے ہیں اور بعض قیدی مناسب طبی سہولیات نہ ہونے کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
دوسری جانب امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) اپنی حراستی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہا ہے، جبکہ بعض مراکز میں انتظامی تبدیلیاں بھی کی جا چکی ہیں۔
جلوس کے اختتام پر مذہبی رہنماؤں نے میکسیکو میں واقع چرچ آف دی امیکولیٹ کنسیپشن میں اجتماعی دعا کی۔ اس موقع پر ویٹیکن سے وابستہ انسانی حقوق کے کارکنوں نے کہا کہ دنیا بھر میں کیتھولک چرچ تارکین وطن کے حقوق، انسانی وقار اور محفوظ ہجرت کے حق کے لیے اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔
