واشنگٹن: امریکا کی ثالثی میں اسرائیل، لبنان اور امریکا کے درمیان ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کر دیے گئے ہیں، جسے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور جنوبی لبنان میں سیکیورٹی صورتحال بہتر بنانے کی جانب ایک ابتدائی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق معاہدے کے تحت لبنانی فوج مرحلہ وار پورے ملک میں اپنی عملداری اور سیکیورٹی کنٹرول بحال کرے گی، جبکہ غیر ریاستی مسلح گروہوں، بالخصوص حزب اللہ، کو غیر مسلح کرنے کا عمل بھی شروع کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کا جنوبی لبنان سے مرحلہ وار انخلاء اسی صورت میں ہوگا جب معاہدے کے تحت طے شدہ سیکیورٹی اقدامات اور حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے عمل کی تصدیق ہو جائے گی۔
معاہدے میں جنوبی لبنان کے دو علاقوں کو ابتدائی طور پر پائلٹ زون قرار دیا گیا ہے، جہاں لبنانی فوج مکمل سیکیورٹی کی ذمہ داری سنبھالے گی۔ ان علاقوں میں تعمیرِ نو کے منصوبے شروع کیے جائیں گے اور بے گھر شہریوں کی مرحلہ وار واپسی کو بھی ممکن بنایا جائے گا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے معاہدے کو "پہلا اہم قدم” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا بنیادی مقصد لبنان کی خودمختاری کو مضبوط بنانا، حزب اللہ کی عسکری صلاحیت کو ختم کرنا اور اسرائیل کی سرحدی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
دوسری جانب لبنانی وزیر اعظم نواف سلام نے کہا کہ معاہدے کا اصل مقصد تمام لبنانی علاقوں سے اسرائیلی فوج کا مکمل انخلاء ہے، تاہم موجودہ فریم ورک میں اس انخلاء کو حزب اللہ کے غیر مسلح ہونے سے مشروط کیا گیا ہے۔
ادھر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے واضح کیا کہ جب تک حزب اللہ مکمل طور پر غیر مسلح نہیں ہوتی اور اسرائیل کو لاحق سیکیورٹی خدشات ختم نہیں ہوتے، اسرائیلی فوج جنوبی لبنان سے مکمل انخلاء نہیں کرے گی۔
الجزیرہ کے مطابق حزب اللہ اس معاہدے کا فریق نہیں ہے۔ تنظیم نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ اسرائیل کو بغیر کسی شرط کے لبنانی سرزمین سے نکلنا چاہیے، جبکہ اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلقات معمول پر لانے کی تجویز بھی ناقابل قبول ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ اس معاہدے کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم سفارتی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، تاہم جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی موجودگی، جاری فوجی کارروائیاں اور حزب اللہ کے سخت مؤقف کے باعث مستقل اور پائیدار امن کا حصول اب بھی ایک بڑا چیلنج تصور کیا جا رہا ہے۔
