ایران کے مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی نے اعلان کیا ہے کہ بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں کے استعمال کا عمل آئندہ چند روز میں بتدریج شروع کر دیا جائے گا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پیر کے روز جاری بیان میں عبدالناصر ہمتی نے کہا کہ ان اثاثوں تک رسائی اور ان کے استعمال کا عمل مرحلہ وار آگے بڑھایا جائے گا اور تمام اقدامات مرکزی بینک کی پالیسیوں اور ہدایات کے مطابق انجام دیے جائیں گے۔
انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ ابتدائی مرحلے میں کتنی رقم دستیاب ہو گی اور کن شعبوں کو ترجیح دی جائے گی، تاہم ان کا کہنا تھا کہ تمام اقدامات باقاعدہ مالیاتی حکمت عملی کے تحت کیے جائیں گے۔
ایرانی حکام گزشتہ کئی ماہ سے اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ بیرونِ ملک موجود منجمد اثاثوں تک رسائی تہران کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ حالیہ سفارتی رابطوں اور مذاکرات میں بھی یہ معاملہ نمایاں طور پر زیر بحث رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے 100 ارب ڈالر سے زائد اثاثے مختلف ممالک میں موجود ہیں، جن میں بڑی مقدار جنوبی کوریا، عراق، چین اور دیگر ریاستوں میں رکھی گئی رقوم پر مشتمل ہے۔ ان اثاثوں کی بحالی ایران کے لیے معاشی دباؤ کم کرنے، زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے اور مختلف ترقیاتی و اقتصادی منصوبوں کے لیے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ منجمد اثاثوں کی جزوی یا مکمل دستیابی ایران کی معیشت، کرنسی مارکیٹ اور بیرونی تجارت پر مثبت اثرات مرتب کر سکتی ہے، تاہم اس عمل کی رفتار سفارتی پیش رفت اور بین الاقوامی معاہدوں پر عمل درآمد سے بھی مشروط رہے گی۔
