مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں فلسطینی سیاسی منظرنامے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں فلسطینی صدر محمود عباس کے بیٹے یاسر عباس نے حکمران جماعت فتح کی اعلیٰ قیادت میں اہم کامیابی حاصل کر لی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق الفتح کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ یاسر عباس جماعت کی مرکزی فیصلہ ساز تنظیم ’’فتح سینٹرل کمیٹی‘‘ کے انتخابات میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ یہ انتخابات تقریباً ایک دہائی بعد منعقد ہونے والی جماعت کی جنرل کانفرنس کے دوران ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق 90 سالہ محمود عباس بدستور الفتح کے چیئرمین رہیں گے، تاہم ان کے بیٹے کی مرکزی کمیٹی میں شمولیت کو فلسطینی اتھارٹی کی مستقبل کی قیادت اور ممکنہ جانشینی کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے اندر مستقبل کی قیادت کے حوالے سے مختلف دھڑوں میں پہلے ہی خاموش رسہ کشی جاری ہے، جبکہ یاسر عباس کی کامیابی اس بات کا اشارہ سمجھی جا رہی ہے کہ عباس خاندان سیاسی اثر و رسوخ برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یاسر عباس ایک معروف فلسطینی تاجر سمجھے جاتے ہیں اور ماضی میں بھی انہیں اپنے والد کے قریبی مشیر اور بااثر شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے، تاہم ناقدین اکثر ان پر اقربا پروری اور معاشی اثر و رسوخ کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔
فتح کی مرکزی کمیٹی جماعت کی سب سے طاقتور سیاسی باڈی تصور کی جاتی ہے جو فلسطینی سیاست، حکمت عملی اور تنظیمی فیصلوں میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
