امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے زیرِ زمین جوہری ذخائر کے قریب جانے والوں کو حملے کا نشانہ بنانے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی خلائی نگرانی نظام ایرانی یورینیم مراکز پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
امریکی صدر نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کے خلاف اپنے بیشتر اہداف حاصل کر لیے ہیں جبکہ باقی اہداف کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اس وقت شدید دباؤ میں ہے اور اس کی فوجی و دفاعی صلاحیتیں متاثر ہو چکی ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر امریکا اس مرحلے پر کارروائیاں روک دے تو ایران کو دوبارہ اپنی صلاحیتیں بحال کرنے میں کئی برس لگ سکتے ہیں، تاہم ابھی امریکی مقاصد مکمل نہیں ہوئے۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق تہران نے جنگ کے خاتمے سے متعلق امریکی مجوزہ منصوبے پر اپنا جواب پاکستان کے ذریعے بھجوا دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ مرحلے میں مذاکرات کا محور خطے میں جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق ایران پہلے بھی پابندیوں کے خاتمے، جنگ کے مستقل اختتام اور آبنائے ہرمز سے متعلق اپنی تجاویز پاکستان کے ذریعے امریکا تک پہنچا چکا ہے۔
ادھر ایران کی اعلیٰ قیادت نے مسلح افواج کو کارروائیاں جاری رکھنے اور دشمنوں کا سختی سے مقابلہ کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ ایرانی فوج نے ان ممالک کو بھی خبردار کیا ہے جو تہران کے خلاف پابندیوں میں تعاون کر رہے ہیں۔
قطر کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک مال بردار بحری جہاز کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ کویت اور متحدہ عرب امارات نے بھی اپنی فضائی حدود میں آنے والے ڈرونز کو ناکارہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق تہران نے آبنائے ہرمز سے بیشتر غیر ایرانی بحری جہازوں کی آمدورفت محدود کر دی ہے، جس کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
