صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین جنگ میں روسی مقاصد کو منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ روسی فوج ایک ایسی جارحانہ قوت کے خلاف برسرِ پیکار ہے جسے پورے مغربی عسکری اتحاد کی حمایت حاصل ہے۔
Red Square میں یومِ فتح کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے روسی صدر نے کہا کہ روسی فوجی آج بھی اسی جذبے اور عزم کے ساتھ لڑ رہے ہیں جس طرح دوسری جنگِ عظیم میں سوویت افواج نے نازی جرمنی کے خلاف جنگ لڑی تھی۔
انہوں نے کہا کہ روس اپنی سلامتی، خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اقدامات کر رہا ہے اور یوکرین میں جاری کارروائی اسی پالیسی کا حصہ ہے۔
اس سال یومِ فتح کی سالانہ پریڈ محدود پیمانے پر منعقد کی گئی۔ سیکیورٹی خدشات کے باعث تقریباً دو دہائیوں میں پہلی مرتبہ بھاری فوجی ہتھیاروں کی نمائش نہیں کی گئی۔
تقریب میں North Korea کے فوجی دستے بھی شریک ہوئے جبکہ روس کے چند قریبی اتحادی ممالک کے رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔
دوسری جانب Russia اور Ukraine نے امریکی صدر Donald Trump کی اپیل پر تین روزہ جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے تاکہ یومِ فتح کی تقریبات پرامن ماحول میں منعقد کی جا سکیں۔
ادھر کریملن نے خبردار کیا ہے کہ اگر کیف کی جانب سے تقریبات میں خلل ڈالنے کی کوئی کوشش کی گئی تو اس کا بھرپور اور سخت جواب دیا جائے گا۔
