امریکہ کے محکمہ خزانہ نے ایران کے ہتھیاروں کے پروگرام میں معاونت کے الزام میں 10 افراد اور کمپنیوں پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جن میں China اور Hong Kong سے تعلق رکھنے والے افراد اور تجارتی ادارے بھی شامل ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق پابندیوں کی زد میں آنے والے عناصر نے ایران کو ہتھیاروں کی تیاری کے لیے درکار سامان اور خام مال کی فراہمی میں مدد فراہم کی۔ واشنگٹن نے الزام عائد کیا ہے کہ ان نیٹ ورکس نے ایران کے Shahed Drone پروگرام کے لیے استعمال ہونے والا خام مواد بھی منتقل کیا۔
امریکی محکمۂ خزانہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ایران کی عسکری صلاحیتوں، خصوصاً ڈرون پروگرام، کو محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب Donald Trump کے متوقع دورۂ چین میں چند روز باقی ہیں، جس کے باعث اس اقدام کو واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان بڑھتی ہوئی سفارتی و تجارتی کشیدگی کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق پابندیوں کے تحت نامزد افراد اور کمپنیوں کے امریکا میں موجود اثاثے منجمد کیے جائیں گے جبکہ امریکی شہریوں اور اداروں کو ان کے ساتھ کاروباری لین دین سے بھی روک دیا گیا ہے۔
