Table of Contents
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے لیے سالانہ تقریباً چار ارب ڈالر کی امریکی امداد ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ امداد رواں سال کے اختتام پر بند کردی جائے گی۔
ٹرمپ نے امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اب مالی طور پر مضبوط ملک ہے۔ اسے امریکی امداد کی ضرورت نہیں رہی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل میں ان کی مقبولیت 99 فیصد ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگر امریکی عوام ان سے تنگ آگئے تو وہ اسرائیل منتقل ہوکر وزیراعظم بن سکتے ہیں۔
ایران جنگ اور انتخابی شکست پر ٹرمپ کا مؤقف
ریپبلکن پارٹی کو وسط مدتی انتخابات میں بڑے نقصان کے بعد ٹرمپ پہلی مرتبہ کیمروں کے سامنے آئے۔ امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، انہوں نے وائٹ ہاؤس میں زیرِ تعمیر نئے بال روم کا دورہ بھی کیا۔
اس موقع پر ایران جنگ اور انتخابی نتائج سے متعلق سوالات بھی سامنے آئے۔ ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ ایران جنگ انتخابی شکست کی ایک بڑی وجہ ہوسکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ انہوں نے ایران کے خلاف جنگ کو ضروری اور ناگزیر قرار دیا۔
ٹرمپ نے ایران کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے سخت مؤقف بھی دہرایا۔ ان کے مطابق ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنا امریکا کی اہم ترجیح ہے۔
اسرائیل کو امداد بند کرنے کی وجہ
ٹرمپ نے انٹرویو میں کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ امداد ختم کرنے کا معاہدہ طے پایا ہے۔ ان کے مطابق یہ معاملہ کئی ماہ پہلے طے ہوا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل اب اپنی دفاعی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم، ضرورت پڑنے پر امریکا اسرائیل کی مدد کرسکتا ہے۔
ٹرمپ کے اس اعلان پر اسرائیل میں سیاسی ردعمل سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق، اپوزیشن نے امریکی امداد بند کرنے کے فیصلے کو بڑا نقصان قرار دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، اپوزیشن نے اس معاملے پر نیتن یاہو سے استعفے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوان جیت لیے
امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرلی ہے۔
ابتدائی نتائج کے مطابق، ڈیموکریٹس نے سینیٹ کی کم از کم سات نشستیں ریپبلکنز سے جیتیں۔ ان میں کنساس، آئیووا، ٹیکساس، اوہائیو، مین، شمالی کیرولائنا اور جنوبی کیرولائنا شامل ہیں۔
ایوانِ نمائندگان میں بھی ڈیموکریٹس نے دو درجن سے زیادہ نشستیں حاصل کیں۔ اس کامیابی کے بعد انہیں ٹرمپ انتظامیہ کی قانون سازی اور پالیسیوں کی نگرانی کے اہم اختیارات مل گئے ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، ایران جنگ اور اس کے معاشی اثرات بھی ووٹرز کی ناراضی کی اہم وجوہات میں شامل تھے۔ یوں انتخابی نتائج نے ٹرمپ کی باقی مدتِ صدارت کے لیے سیاسی صورت حال بدل دی ہے۔
