Table of Contents
انٹرنیشنل تعظیم حرمین شریفین کونسل کے سیکرٹری جنرل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے اہم بیان دیا ہے۔ وہ پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین بھی ہیں۔ اپنے ویڈیو پیغام میں انہوں نے سعودی عرب کی کوششوں کا ذکر کیا۔
طاہر اشرفی کے مطابق، سعودی عرب طویل عرصے سے امتِ مسلمہ کے اتحاد کے لیے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کوششوں کے نتائج پہلے بھی سامنے آ چکے ہیں۔
انہوں نے تہران میں ہونے والے سفارتی رابطوں کو اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق، سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان بھی ان رابطوں میں شریک ہیں۔ پاکستان کی جانب سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی تہران میں موجود ہیں۔ ترکیہ کے حکام بھی اس عمل کا حصہ ہیں۔
طاہر اشرفی نے امید ظاہر کی کہ تہران مذاکرات کامیاب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کوششوں کی بنیاد فلسطین کا مسئلہ اور امتِ مسلمہ کا اتحاد ہونا چاہیے۔
سعودی عرب پر حملوں اور ایران کے مؤقف سے متعلق بیان
حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ وہ کئی ہفتوں سے سعودی عرب پر حوثی حملوں کے بارے میں اپنا مؤقف پیش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، ایران نے ان حملوں سے لاتعلقی ظاہر کی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں کے ذریعے سعودی عرب پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے بقول، اس دباؤ کا مقصد مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو کھلا شہر قرار دلوانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض عناصر سعودی عرب کو فلسطین کے معاملے پر اپنا مؤقف بدلنے پر بھی مجبور کرنا چاہتے ہیں۔
طاہر اشرفی نے کہا کہ ایران کی جانب سے حوثی حملوں سے لاتعلقی کے اعلان کو عملی اقدامات سے واضح ہونا چاہیے۔ انہوں نے تہران میں جاری سفارتی رابطوں کو اس تناظر میں اہم قرار دیا۔
حرمین شریفین کو کھلا شہر قرار دینے کے مطالبے پر اعتراض
چیئرمین پاکستان علماء کونسل نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو کھلا شہر قرار دینے کے مطالبات پر اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین کے تقدس کا احترام تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔
ان کے مطابق، حوثی حلقوں اور اسرائیلی شخصیات کی جانب سے ایسے مطالبات سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں بھی بعض افراد ان مطالبات کی حمایت کر رہے ہیں۔
طاہر اشرفی نے کہا کہ حرمین شریفین کی حیثیت اور انتظامات پر سوال اٹھانا درست نہیں۔ ان کے مطابق، سعودی حکومت ان مقدس مقامات کی خدمت اور انتظام کی ذمہ داری ادا کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آلِ سعود نے گزشتہ ایک صدی کے دوران یہ ذمہ داری نبھائی ہے۔ ان کے بقول، سعودی حکومت نے حجاج اور زائرین کے لیے نمایاں سہولتیں فراہم کی ہیں۔
حجاج اور زائرین کے لیے سعودی خدمات کی تعریف
حافظ طاہر محمود اشرفی نے سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی حکومت نے حجاج اور زائرین کے لیے متعدد سہولتیں پیدا کی ہیں۔
ان کے مطابق، شہزادہ محمد بن سلمان کے دور میں بھی اس شعبے پر توجہ دی گئی ہے۔ طاہر اشرفی نے ان اقدامات کو حرمین شریفین کی خدمت کا حصہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ بعض عناصر سعودی ولی عہد کی قیادت میں ہونے والی کوششوں کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ ان کے بقول، پاکستان اور سعودی عرب کی قیادت امت کے اتحاد کے لیے کام کر رہی ہے۔
طاہر اشرفی نے مزید کہا کہ مسلم ممالک کا اتحاد انتشار پھیلانے والے عناصر کے ایجنڈے کو ناکام بنا سکتا ہے۔ انہوں نے باہمی تعاون کو خطے کے امن کے لیے ضروری قرار دیا۔
سعودی عرب کے علاقائی مؤقف کا حوالہ
چیئرمین پاکستان علماء کونسل نے کہا کہ سعودی عرب نے اسرائیل اور امریکا کے حملوں کی مذمت کی تھی۔ ان کے مطابق، سعودی عرب نے اپنی سرزمین کو عراق کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کا اعلان بھی کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے اپنی فضائی حدود اور زمینی راستوں کے استعمال سے متعلق بھی یہی مؤقف اپنایا۔ طاہر اشرفی نے تہران کے مذاکرات کو علاقائی سفارتی کوششوں کا اہم حصہ قرار دیا۔
امتِ مسلمہ کے اتحاد اور امن کے لیے دعا
حافظ طاہر محمود اشرفی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کو متحد کرے۔ انہوں نے تمام اسلامی ممالک کی حفاظت کے لیے بھی دعا کی۔
انہوں نے فلسطینی عوام کی آزادی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ دن آئے جب مسلمان فلسطین جا کر شکرانے کے نوافل ادا کر سکیں۔
طاہر اشرفی کے مطابق، امت کا اتحاد، حرمین شریفین کا احترام اور فلسطین کی آزادی اہم ترجیحات ہیں۔
